استنبول(پاک ترک نیوز )ترکیہ نے بحیرہ اسود کے مغربی حصے میں تیل کی تلاش کے لیے ایک مشکل اور طویل ڈرلنگ آپریشن جلد شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بایراکتار کے مطابق مغربی بحیرہ اسود میں تیل کی تلاش کے لیے جلد کھدائی شروع کی جائے گی، تاہم یہ ایک مشکل عمل ہوگا اور اسے مکمل ہونے میں وقت لگے گا۔
ترکیہ نے گزشتہ چند برسوں کے دوران سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور گہرے پانیوں میں کھدائی کرنے والے جہازوں کی تعداد 6 تک پہنچ گئی ہے۔
ترکیہ کا منصوبہ ہے کہ 2026 کے دوران بحیرہ اسود کے مغربی، وسطی اور مشرقی حصوں میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے 6 نئے کنویں کھودے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں : چین کے میزائل، ترکیہ کی توپیں۔۔۔ پاکستان کا نیا اینٹی ڈرون نظام
ترک وزیر توانائی نے بتایا کہ حکومت رواں سال کے اختتام تک بحیرہ اسود کے وسیع گیس ذخائر سے پیداوار کو دوگنا کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
ترکیہ نے 2020 میں بحیرہ اسود میں 320 ارب مکعب میٹر گیس دریافت کرنے کا اعلان کیا تھا، بعد میں اندازہ بڑھا کر 405 ارب مکعب میٹر کیا گیا۔ مزید دریافتوں کے بعد مجموعی اندازہ 785 ارب مکعب میٹر تک پہنچ چکا ہے۔
اس وقت بحیرہ اسود کے ساکاریہ گیس میدان سے روزانہ تقریباً 95 لاکھ مکعب میٹر گیس پیدا ہورہی ہے، جو تقریباً 40 لاکھ گھروں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ رواں سال پیداوار میں اضافے کے بعد یہ گیس تقریباً 80 لاکھ گھروں کے لیے کافی ہونے کی توقع ہے۔
ترکیہ نے 2028 تک بحیرہ اسود سے گیس کی پیداوار چار گنا بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مرحلے پر سالانہ تقریباً 16 سے 17 ارب مکعب میٹر گیس پیدا کرنے کا منصوبہ ہے، جو روس سے ترکیہ کی موجودہ گیس درآمدات کے تقریباً 80 فیصد کے برابر ہوگی۔











