اسلام آباد (پاک ترک نیوز )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کے ناقص معیار پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔
کمیٹی کے چیئرمین امین الحق نے کہا کہ سپیکٹرم کی نیلامی کے بعد موبائل اور انٹرنیٹ سروس بہتر ہونے کے بجائے روز بروز خراب ہو رہی ہے، صارفین کو ایک کال ملانے کے لیے بھی کئی مرتبہ نمبر ملانا پڑتا ہے۔
کمیٹی ارکان نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کے خلاف کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے۔ چیئرمین نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران عائد کیے گئے جرمانوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ کمپنیوں کو بار بار نوٹس اور وارننگ دینے کے باوجود صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔
پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کمپنیوں کو معیار بہتر بنانے کے لیے 30 دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ اتھارٹی زیادہ سے زیادہ 35 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کر سکتی ہے۔
حکام کے مطابق بعض ٹیلی کام کمپنیوں نے جرمانوں کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناع حاصل کر رکھا ہے، جبکہ کئی مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ پانچویں نسل کی موبائل سروس کے آغاز کے بعد سروس کے معیار میں بہتری آ رہی ہے۔ کراچی میں پانچویں نسل کی سروس فراہم کرنے والے مراکز کی تعداد 279 تک پہنچ چکی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو پاکستان لانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔چیئرمین کمیٹی امین الحق نے سوال اٹھایا کہ جب دنیا کی دیگر بڑی موبائل کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں تو ایپل پاکستان کیوں نہیں آ سکتی۔
انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سربراہ حامد منصور نے بتایا کہ ایپل کو پاکستان لانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ دورہ امریکا کے دوران ایپل کے سربراہ جان ٹرنَس سے ملاقات کرانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں ایپل کا ایک اسٹور پہلے ہی قائم ہو چکا ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ کمپنی پاکستان میں موبائل فون کی تیاری کے شعبے میں بھی داخل ہو۔











