ریاض ( پاک ترک نیوز) سعودی عرب نے ترکیہ کے ففتھ جنریشن کان فائٹر جیٹ پروگرام میں شمولیت پر غور شروع کر دیا۔لندن کے نشریاتی ادارے دی نیو عرب کے مطابق ریاض ترکیہ کی ایرو اسپیس انڈسٹریز کی قیادت میں جاری ’کان‘ پروگرام میں شامل ہونے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے طیاروں کی براہِ راست خریداری کے علاوہ اس کی تیاری اور ترقی کے مراحل میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کے آپشنز بھی زیرِ غور ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ’کان‘ پروگرام پر مذاکرات کئی ماہ سے جاری ہیں، تاہم 7 اگست 2026 کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد ان رابطوں میں مزید تیزی آئی ہے۔رواں سال فروری میں ریاض میں ہونے والے ورلڈ ڈیفنس شو کے دوران ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز کے جنرل منیجر مہمت دمیر اولو نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ بات چیت اعلیٰ ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے میزائل، ترکیہ کی توپیں۔۔۔ پاکستان کا نیا اینٹی ڈرون نظام
ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی سعودی عرب کے دورے کے دوران کہا تھا کہ ’کان‘ پروگرام میں مشترکہ سرمایہ کاری کا معاہدہ کسی بھی وقت طے پاسکتا ہے۔سعودی عرب کی ’کان‘ پروگرام میں دلچسپی کو وژن 2030 کے تحت دفاعی پیداوار اور فوجی اخراجات کو مقامی بنانے کی کوششوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ ریاض کا ہدف 2030 تک اپنے 50 فیصد فوجی اخراجات کو مقامی سطح پر منتقل کرنا ہے۔ سعودی عرب ایک طرف ترکیہ کے ’کان‘ پروگرام میں شمولیت کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے تو دوسری جانب امریکی ساختہ ایف 35 طیاروں کے حصول کے لیے بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے 2025 میں سعودی عرب کو ایف 35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کی حمایت کی تھی، تاہم اسرائیل کو خطے میں اپنی فوجی برتری برقرار رکھنے سے متعلق امریکی تحفظات بدستور اہم ہیں۔امریکی ساختہ ایف 35 پروگرام میں ترکیہ پہلے شامل تھا، تاہم روس سے ایس 400 دفاعی نظام خریدنے کے بعد 2019 میں اسے پروگرام سے نکال دیا گیا تھا۔












