واشنگٹن (پاک ترک نیوز )امریکی فوج نے جنگ کے دوران GPS سگنل بند ہونے یا دشمن کی جانب سے خلل ڈالے جانے کی صورت میں فوجی گاڑیوں کی رہنمائی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔
امریکی فوج نے دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی ٹرن کو ایک کروڑ 12 لاکھ 60 ہزار ڈالر کا معاہدہ دیا ہے، جس کے تحت فوجی گاڑیوں میں ایسے نظام نصب کیے جائیں گے جو GPS یا بیرونی رابطے کے بغیر بھی گاڑی کی درست سمت اور مقام کا تعین کرسکیں گے۔
کمپنی کے مطابق اس نظام میں گاڑی کے پہلے سے موجود مختلف حسّاس آلات سے حاصل ہونے والی معلومات کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے استعمال کیا جائے گا۔ فوجی اہلکار کسی بیرونی رابطے کے بغیر پہلے سے محفوظ کیے گئے علاقے کا نقشہ دیکھ سکیں گے اور گاڑی کی موجودہ پوزیشن جان سکیں گے۔
نظام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دشوار گزار اور غیر ہموار علاقوں میں بھی راستوں کی نشاندہی کرسکتا ہے، جہاں روایتی رہنمائی کے نظام مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
امریکی دفاعی حکام کے مطابق مستقبل کی جنگوں میں دشمن کی جانب سے برقی جنگ اور GPS میں خلل ڈالنے کی صلاحیت ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں فوجی گاڑیوں، مواصلاتی نظام اور دیگر جنگی وسائل کے لیے متبادل انتظام انتہائی اہم ہوگا۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نظام صرف راستہ دکھانے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ فوجی گاڑی کی مجموعی حالت پر بھی نظر رکھے گا۔ نظام ایندھن کی مقدار، گاڑی کی دیکھ بھال کی ضروریات اور پیدا ہونے والی خرابیوں کی بروقت نشاندہی کرسکے گا، جس سے کمانڈروں کو میدان جنگ میں گاڑیوں کی حالت اور آپریشنل ضروریات سے متعلق بہتر معلومات حاصل ہوں گی۔












