تل ابیب(پاک ترک نیوز ) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے قائم کی گئی غیر مجاز چوکیوں کو ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق معاملے سے واقف دو افراد نے بتایا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے پرتشدد حملوں کے سدباب کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کا حکم ان چوکیوں پر لاگو ہوگا جنہیں اسرائیلی ریاست کی باضابطہ اجازت کے بغیر آبادکاروں نے قائم کیا ہے۔ ایسی چوکیوں میں عموماً عارضی کاروان اور محدود تعداد میں آبادکار شامل ہوتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت ماضی میں بھی بعض غیر مجاز چوکیوں کو مسمار کرتی رہی ہے، جبکہ کچھ دیگر کو بعد ازاں سرکاری طور پر تسلیم کرکے انہیں حکومتی فنڈز اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔امریکا کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکابی نے بھی ہفتے کے روز پرتشدد آبادکاروں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مغربی کنارے کے ایک فلسطینی قصبے میں فلسطینی نژاد امریکی شہریوں سے ملاقات کے بعد یہ بیان دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹار لنک کی آمد سے متحدہ عرب امارات سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کا علاقائی مرکز بننے کی راہ پر
اسرائیلی ویب سائٹ وائے نیٹ نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ نیتن یاہو کے احکامات کا ہدف مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 100 غیر مجاز آبادکار چوکیوں کو بنایا گیا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر خزانہ اور آبادکار رہنما بیزلیل سموٹریچ نے یروشلم میں ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ نیتن یاہو نے ایریا اے اور ایریا بی میں قائم مقامات کو خالی کرانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے فیصلے سے اختلاف کا اظہار بھی کیا، تاہم کہا کہ حکومت نے ایریا سی میں یہودی بستیوں کی توسیع میں بڑی پیش رفت کی ہے۔












