غزہ ( پاک ترک نیوز) اسرائیل کا کہناہے جب تک حماس حقیقی معنوں میں اپنے بھاری ہتھیار نہیں چھوڑتی، اسرائیلی فوج غزہ میں موجود اپنی موجودہ دفاعی پوزیشنوں سے انخلا نہیں کرے گی۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق غزہ میں مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت حماس نے بین الاقوامی ثالثوں کے ساتھ اس شرط پر اپنے بھاری ہتھیار چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ اسرائیلی فوج مکمل طور پر غزہ سے واپس چلی جائے۔
تاہم اس معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق کئی اہم سوالات تاحال حل طلب ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ حماس کے ہتھیار کس کے حوالے کیے جائیں گے اور غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلا میں پہلے کون سا مرحلہ مکمل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ بورڈ آف پیس کاحماس کے غیر مسلح ہونےکا معاہدہ ،ٹرمپ کا اعلان
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا کہ حماس کے حقیقی غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج اپنی موجودہ دفاعی لائن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں گفتگو کرتے ہوئے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے بڑا قدم قرار دیا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ غزہ کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور پائیدار امن کے لیے ابھی مزید پیش رفت درکار ہے۔












