غزہ (پاک ترک نیوز ) اسرائیل پر مقبوضہ مغربی کنارے میں آثارِ قدیمہ کے مقامات کو فلسطینی زمینوں پر قبضے اور اسرائیلی کنٹرول بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
قدیم شہر سبسطیہ کے مقام پر اسرائیلی حکام نے تقریباً 450 ایکڑ فلسطینی اراضی اپنی تحویل میں لینے کا عمل شروع کردیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق زمین آثارِ قدیمہ کے مقام کے تحفظ اور اسے ایک بڑے قومی پارک کے طور پر ترقی دینے کے لیے حاصل کی جا رہی ہے۔
فلسطینی زمینداروں کا کہنا ہے کہ زمین ان کے خاندان کئی نسلوں سے کاشت کرتے آ رہے ہیں اور اس سے محرومی ان کے لیے صرف مالی نقصان نہیں بلکہ اپنے آبائی ورثے سے محرومی کے مترادف ہے۔
سبسطیہ کے رہائشیوں کے مطابق اسرائیلی منصوبے کے نتیجے میں فلسطینی آبادی کو آثارِ قدیمہ کے مقام سے دور کیا جا سکتا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کھدائی اور بحالی کا کام شروع ہوچکا ہے جبکہ انہیں اپنی زمینوں پر کاشت یا ہل چلانے سے بھی روکا گیا ہے۔
یونیسکو نے بھی سبسطیہ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست کے ساتھ ساتھ خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ یونیسکو کے مطابق مجوزہ زمینوں کے حصول اور قومی پارک کے قیام سے تاریخی مقام تقسیم ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں عملی امتحانات کے لیے نیا نظام متعارف
دوسری جانب اسرائیل نے آثارِ قدیمہ کے مقامات پر اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے انہیں تاریخی ورثے کے تحفظ اور ترقی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے یونیسکو کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی عالمی ادارے میں ہونے والی ووٹنگ تاریخ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔
مغربی کنارے کے ایک اور اہم تاریخی مقام ہیروڈیم میں بھی اسرائیل نے تقریباً 80 ایکڑ اراضی حاصل کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق زمین آثارِ قدیمہ کے مقام کے تحفظ اور ترقی کے لیے حاصل کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی تنظیم پیس ناؤ کے مطابق بین الاقوامی قانون اور اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تحت اسرائیل آبادکاری کے مقاصد یا صرف اسرائیلی شہریوں کے فائدے کے لیے فلسطینی زمینیں ضبط نہیں کرسکتا۔
اسرائیل میں دائیں بازو کے بعض حلقے آثارِ قدیمہ کے مقامات پر مزید اختیارات حاصل کرنے کے لیے قانون سازی کی کوشش بھی کرچکے ہیں۔ مجوزہ قانون کے تحت مغربی کنارے میں آثارِ قدیمہ کے مقامات سے متعلق اختیارات اسرائیلی وزارتِ ثقافتی ورثہ کو منتقل کیے جانے اور زمینیں حاصل کرنے کے وسیع اختیارات دینے کی تجویز تھی۔
اسرائیلی تنظیم ایمک شاوے کے کارکن الون آراد نے الزام عائد کیا ہے کہ آثارِ قدیمہ کو فلسطینی اراضی اسرائیلی کنٹرول میں منتقل کرنے اور تاریخ کے بیانیے کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی باشندوں کو خدشہ ہے کہ اسرائیلی اقدامات کے نتیجے میں وہ اپنے تاریخی مقامات اور آبائی زمینوں سے محروم ہوجائیں گے اور سبسطیہ کے آثارِ قدیمہ سے ان کا صدیوں پرانا تعلق ختم ہوجائے گا۔












