تہران ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ امریکہ نے ایران میں درجنوں فوجی اہداف پر نئے حملے کر دیے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید سخت جوابی کارروائیوں کا اعلان کر دیا، جبکہ ایران نے مزاحمت جاری رکھنے کا عزم دہرایا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ اس دوران مصر کی بندرگاہ پر ڈرون حملے نے بھی خطے کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ دیکھیے یہ رپورٹ۔
امریکہ نے ایران کے خلاف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرتے ہوئے قیشم جزیرے، بوشہر، بندر عباس، ابوموسیٰ اور دیگر علاقوں میں حملے کیے، جہاں متعدد دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق کارروائی کے دوران ایران میں درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز، دفاعی مقامات اور بحری صلاحیتوں سے متعلق تنصیبات شامل ہیں۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئیں، جبکہ تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ ان حملوں سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا جنگ میں فتح کا دعویٰ
اسی دوران مصر کی ایک بندرگاہ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں دو جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ برطانوی بحری سکیورٹی کمپنی کے مطابق حملے میں ایک امریکی گیس اسٹوریج ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد بحیرۂ احمر میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی مفادات پر کسی بھی حملے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکی فوج پر بیلسٹک میزائل حملے کی ایک کوشش ناکام بنا دی گئی، جبکہ متعدد میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے۔ ٹرمپ نے عراق میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کو بھی خطے کے لیے ایک نیا کینسر قرار دیا۔
دوسری جانب واشنگٹن میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران سے کشیدگی اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سعودی وزیر دفاع نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی نائب صدر تک پہنچاتے ہوئے واضح کیا کہ سعودی عرب ایران سے تصادم نہیں بلکہ کشیدگی میں کمی چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ کارروائیاں توانائی تنصیبات پر حملوں کے جواب میں کی گئیں، تاہم ریاض خطے میں مزید کشیدگی کے بجائے سفارتی اور سیاسی حل کی حمایت کرتا ہے۔
دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے دشمن کے خلاف مزاحمت کی نئی مثال قائم کی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی عوام نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ ناانصافی اور ظلم کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت بھی اپنے شہریوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی اجازت نہیں دے سکتی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی، بحیرۂ احمر میں حملوں اور سفارتی سرگرمیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات کے پیش نظر حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔












