تل ابیب(پاک ترک نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے جیرڈ کُشنر نے کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ امن منصوبے کی طرف بڑھنے پر پیشرفت ایک مہینے کے اندر ہو سکتی ہے۔
عرب میڈیاکے مطابق یہ بیان ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔جس میں جیرڈ کشنر نے تل ابیب میںایک امریکی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں 30 روز میں پیشرفت دکھائی دے رہی ہے۔ امید ہے اس دوران کچھ ہتھیاروں کو ہٹانے کا کام شروع ہو گا جبکہ سرنگوں کو بند کرنے پر بھی کام کا آغاز ہو گا۔
حماس سے ملاقات کے بعد ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی جیرڈ کشنر کی غزہ منصوبے پر نیتن یاہو سے بات چیت ہوئی جسکے مطابق جیرڈ کُشنر اور نیتن یاہو اس بات پر متفق ہوئے کہ حماس کے تخفیف اسلحہ کی تصدیق ایک امریکی جنرل کرے گا۔رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے اصرار کیا گیا ہے کہ ایسا ہونے تک کوئی اسرائیلی غزہ سے باہر نہیں جائے گا۔
اس سمجھوتے کو صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف اسرائیل کو مطمئن کرنے کی ایک نئی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل نیتن یاہو نے جن کو دوبارہ انتخاب کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے، عوامی سطح پر امریکہ کے اس منصوبے کو مسترد کر دیا تھا جو غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے بنایا گیا ہے۔
جیرڈ کُشنر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور نیتن یاہو کے دیرینہ خاندانی دوست ہیں۔ انہوں نے مصر میں حماس کے ساتھ غیرمعمولی براہ راست بات چیت کے ایک روز بعد نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ غزہ کی پٹی میں تب تک کوئی نئی تعیناتی یا تعمیر نو کی کارروائی شروع نہیں کی جائے گی جب تک پورے غزہ میں حماس غیر مسلح نہیں ہو جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی شام پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت
یاد رہے کہ30 جولائی کو حماس کی جانب سے متفقہ روڈ میپ میں بتایا گیا تھا کہ ہتھیاروں کو ختم کرنے کی نگرانی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کرے گی جو کہ ایک نیا یونٹ ہے جس کو غزہ میں صورت حال معمول پر آنے کے بعد تعینات کیا جانا ہے اور اس کی قیادت امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز کر رہے ہیں۔












