غزہ ( پاک ترک نیوز) غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو آگے بڑھانے کی امریکی کوششیں ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوگئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے طویل ملاقات ہوئی، تاہم اہم معاملات پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔
اسرائیلی حکام کے مطابق نیتن یاہو نے واضح کردیا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائے گی اور اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ملاقات میں نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا کہ غزہ سے اسرائیلی انخلا اور تعمیر نو کا عمل حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے بعد ہی شروع ہوسکتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کے ہتھیار حوالے کرنے کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک امریکی جنرل تعینات کرنے کی تجویز بھی دی۔
نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق ملاقات میں غزہ کو غیر مسلح اور غیر عسکری بنانے کے لیے دو ورکنگ گروپس تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اسرائیل اور بورڈ آف پیس کے مطابق غزہ کی تعمیر نو سے قبل حماس کے غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل ہونا چاہیے۔
دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ وہ امریکی حمایت یافتہ 15 نکاتی روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے، تاہم اسرائیل کو پہلے غزہ پر حملے روکنے اور اپنی فوج کو نام نہاد ’’یلو لائن‘‘ تک واپس بلانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا غزہ میں خونزیرز جنگ ختم ہو گئی؟
حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی منصوبے پر عمل درآمد سے قبل اسرائیلی فوج غزہ کے ان علاقوں سے بھی پیچھے ہٹے جہاں اس وقت اس کا کنٹرول ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل غزہ کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر قابض ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنگ بندی منصوبے کو آگے بڑھانے میں ہچکچاہٹ پر امریکی انتظامیہ میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ امریکی حکومت اسرائیلی حملوں میں کمی، فوجی انخلا میں پیش رفت اور غزہ میں انسانی امداد میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی روڈ میپ مسترد کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
غزہ جنگ بندی معاہدے میں سب سے بڑا اختلاف حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کی ترتیب پر برقرار ہے۔ اسرائیل پہلے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ حماس اور دیگر فریق اسرائیلی فوج کے انخلا کو معاہدے پر عمل درآمد کی بنیادی شرط قرار دیتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1200 سے زائد فلسطینی جاں بحق اور 4100 سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔












