لاہور( پاک ترک نیوز) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے حکومت سے مذاکرات کا ایک اور دور آج شام چھ بجے ہوگا، جماعت اسلامی کا حکومت سے واحد مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےحافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت بار بار سوال کرتی ہے کہ پٹرولیم لیوی ختم کرنے سے پیدا ہونے والی رقم کہاں سے پوری کی جائے گی، ہم حکومت کو بارہا بتا چکے ہیں کہ رقم کہاں سے پوری کی جاسکتی ہے۔ حکومت کے پاس ہمارے مؤقف کے جواب میں کوئی دلیل نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ہزار پانچ سو سڑسٹھ ارب روپے پٹرولیم لیوی جمع کرکے صرف پچیس ارب روپے کا ریلیف دے رہی ہے۔ حکومت مذاکرات کو ٹالنے کی کوشش نہ کرے، اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو مذاکرات ختم کردیں گے، اس کے بعد فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد مارچ کے بعد حکومت کو جماعت اسلامی کی جدوجہد کا اندازہ ہوگیا ہے۔ حکومت خیرات بانٹنے کے بجائے پٹرولیم لیوی ختم کرے۔ عوام کو لائنوں میں لگانے کا نظام بنایا جا رہا ہے، جبکہ اصل مسئلے کا حل پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔امیر جماعت اسلامی نے حکومت کے لاک ڈاؤن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بجائے پٹرولیم لیوی ختم کرکے مسئلہ حل کیا جائے۔ دکانداروں اور تاجروں کو دباؤ میں لانے کا نظام قابل قبول نہیں، پولیس دکانیں بند کرانے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیوں نہیں کی گئی؟ ٹرانسپورٹ، ٹریکٹرز اور دیگر شعبے ڈیزل پر چلتے ہیں، پٹرولیم لیوی کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا طریقہ بھی ختم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پٹرولیم مصنوعات پر کتنےٹیکس ،لیوی وصول کر رہی ہے؟
انہوں نے حکومت سے سود کی شرح کم کرنے کے وعدے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اخراجات کم کرنے کے بجائے عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ سرکاری طیارے کے استعمال کا مکمل ریکارڈ قوم کے سامنے لایا جائے اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ وزراء اور سرکاری افسران کی گاڑیاں تیرہ سو سی سی تک محدود کی جائیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وفاقی حکومت بدامنی نہ پھیلائے اور نظام کو چلنے دے۔ حکومت عوام کو اصل مسائل سے ہٹا کر نئے موضوعات میں الجھا رہی ہے۔ عوام کو آپس میں لڑوا کر اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش مسترد کرتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ ملک کے اکتالیس شہروں میں دھرنے جاری ہیں۔ آج کراچی میں بڑا جلسہ عام ہوگا، کل لاہور میں جلسہ عام ہوگا، اٹھارہ ستمبر کو مردان اور پشاور میں احتجاج کیا جائے گا جبکہ بیس ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی ختم کیے بغیر احتجاج ختم نہیں ہوگا۔ جماعت اسلامی نے احتجاج کے لیے منصوبہ الف، ب اور ج تیار کر رکھا ہے، پہلے منصوبے کا اعلان سترہ ستمبر کی رات کیا جائے گا۔ کنٹینر لگا کر سڑکیں بند کرنے سے عوام کو احتجاج سے نہیں روکا جاسکتا، حکومت حالات خراب نہ کرے اور معمولات زندگی متاثر نہ کرے۔حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کسی رکن قومی یا صوبائی اسمبلی کو ساتھ ملا کر احتجاج نہیں کرتی، کارکن سے امیر تک جماعت اسلامی کی قیادت ایک مؤقف پر قائم ہے۔ ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، عوام کے مسائل کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔
بجلی کے شعبے سے متعلق حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی ادائیگیوں کے معاملے پر عوام کو مکمل حقائق بتائے۔ گزشتہ سال بھی ایک ہزار آٹھ سو ارب روپے سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی ادائیگیوں کی مد میں دیے گئے، حالانکہ بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود یہ ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ مٹیاری لاہور ترسیلی لائن بھی پوری استعداد سے استعمال نہیں ہورہی۔انہوں نے حکومت پر بدترین حکمرانی اور بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ہر شعبے میں نظر آ رہی ہے۔چینی کے معاملے پر حافظ نعیم الرحمان نے سوال کیا کہ اگر ملک میں چینی وافر مقدار میں موجود تھی تو پہلے درآمد کیوں کی گئی؟ چینی کی درآمد پر ترپن فیصد ڈیوٹی میں رعایت کیوں دی گئی؟ انہوں نے کہا کہ شوگر مل مالکان کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور شوگر مل مالکان کی پریس کانفرنسوں کے پیچھے حکومتی مطالبات ہیں۔
پٹرولیم لیوی کے خلاف سیاسی جماعتوں سے رابطوں کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تمام جماعتوں سے رابطے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے ہماری تحریک کی حمایت کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی پٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کی حمایت کی جبکہ بیرسٹر گوہر نے باقاعدہ بیان جاری کرکے حمایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی دو مرتبہ پٹرولیم لیوی کے خلاف قرارداد منظور کرچکی ہے۔ پٹرولیم لیوی کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ عام آدمی کا مسئلہ ہے، اس مطالبے پر سب کو ایک مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ پٹرولیم لیوی کا مسئلہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا بھی مسئلہ ہے۔ بلاول بھٹو سے بھی پٹرولیم لیوی کے معاملے پر رابطے کی کوشش کی ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد مارچ معمولی سرگرمی نہیں ہوگا بلکہ غیر معمولی عوامی شرکت ہوگی اور اس کے نتیجے میں عوام کو ریلیف ملے گا۔












