برلن (پاک ترک نیوز)جرمنی نے لڑاکا طیاروں کے لیے جدید لیزر ہتھیار تیار کرنے کا منصوبہ شروع کردیا ہے، جس کا مقصد دشمن کے ڈرونز اور کروز میزائلوں کو فضا ہی میں نشانہ بناکر تباہ کرنا ہے۔
دفاعی ویب سائٹ دی وار زون کے مطابق جرمن دفاعی کمپنی ایم بی ڈی اے ڈوئچ لینڈ کو اس منصوبے کے تحت لیزر ہتھیار کا ابتدائی نمونہ تیار کرنے کا معاہدہ دیا گیا ہے۔ یہ نظام ایک خصوصی پوڈ کی شکل میں طیارے کے نیچے نصب کیا جائے گا۔
منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں لیزر ہتھیار کے بنیادی پرزوں اور ٹیکنالوجی پر کام کیا جائے گا۔ تاہم اس کی طاقت، رینج، میزبان طیارے اور تیاری کی مدت سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایم بی ڈی اے کے مطابق مستقبل میں یہ نظام دشمن کے ڈرونز اور کروز میزائلوں کو نشانہ بنانے کے قابل ہوسکتا ہے۔ لیزر ہتھیار کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اسے استعمال کرنے کے لیے روایتی میزائل یا گولہ بارود خرچ نہیں کرنا پڑتا، بلکہ بجلی اور کولنگ سسٹم کی دستیابی تک مسلسل حملے کیے جاسکتے ہیں۔
اس صلاحیت سے بڑی تعداد میں آنے والے کم قیمت ڈرونز کے خلاف دفاعی اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مستقبل میں ایسے لیزر پوڈز طیاروں کو فضائی اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
جرمنی 2019 سے لیزر ٹیکنالوجی کو دفاعی تحقیق میں اہم ترجیح دے رہا ہے۔ ایم بی ڈی اے اس سے پہلے جرمن بحریہ کے لیے بھی لیزر ہتھیار تیار کرنے کے تجربات کرچکی ہے۔
2022 میں لیزر ہتھیار کا ایک تجرباتی نظام جرمن بحریہ کے جنگی جہاز ساکسن پر نصب کیا گیا تھا، جہاں ستمبر 2023 تک مختلف آزمائشیں جاری رہیں۔ ان تجربات کے دوران 100 سے زائد مرتبہ فائرنگ کی گئی اور ایک ڈرون کو بھی کامیابی سے تباہ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق طیارے میں طاقتور لیزر نصب کرنا ایک مشکل تکنیکی مرحلہ ہے۔ اس کے لیے زیادہ بجلی، مؤثر کولنگ، کم وزن اور انتہائی درست نشانہ بندی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا،وزیراعظم
اس کے علاوہ ہوا میں نمی، گردوغبار اور فضائی انتشار لیزر کی طاقت اور ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ طیارے کی رفتار، ارتعاش اور درجہ حرارت میں تبدیلیاں بھی اس نظام کی کارکردگی کے لیے چیلنج ہیں۔
امریکا بھی لڑاکا طیاروں اور دیگر فوجی پلیٹ فارمز کے لیے لیزر ہتھیار تیار کرنے کے منصوبوں میں مشکلات کا سامنا کرچکا ہے۔












