لاہور( پاک ترک نیوز) فضائی دنیا میں ایک ایسی دوڑ جاری ہے جس میں جیت صرف طیارے بنانے سے نہیں، بلکہ وقت پر طیارے فراہم کرنے سے بھی طے ہوگی! دنیا کی دو بڑی طیارہ ساز کمپنیاں، بوئنگ اور ایئربس، آرڈرز پورے کرنے کے لیے اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا رہی ہیں۔ بوئنگ نے چوتھی اسمبلی لائن بھی فعال کر دی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کمپنی ہر ماہ 70 طیارے بنانے کا اپنا خواب پورا کر پائے گی؟ اور کیا ایئربس کو پیچھے چھوڑنا ممکن ہوگا؟ دیکھیے یہ خصوصی رپورٹ!
دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کو نئے مسافر طیاروں کی ضرورت ہے، آرڈرز کی طویل قطاریں لگی ہیں، لیکن طیاروں کی تیاری اور بروقت فراہمی دونوں کمپنیوں کے لیے بڑا امتحان بن چکی ہیں۔امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے لیے یہ مقابلہ محض کاروبار نہیں، بلکہ اپنی ساکھ اور مالی مستقبل بحال کرنے کی جنگ بھی ہے!اعداد و شمار دیکھیے، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں بوئنگ نے 737 خاندان کے 320 طیارے فراہم کیے، یعنی اوسطاً ہر ماہ 40 طیارے۔ کمپنی کا فوری ہدف 47 طیارے ماہانہ فراہم کرنا، جبکہ 2027 میں اس تعداد کو بڑھا کر 52 تک پہنچانا ہے۔لیکن اصل سنسنی خیز ہدف اس سے بھی بڑا ہے! بوئنگ طویل مدت میں ہر ماہ 70 طیارے تیار کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔ اگر ایسا ممکن ہوا تو کمپنی کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔اسی منصوبے کے تحت جولائی 2026 میں ایورٹ میں چوتھی اسمبلی لائن فعال کی گئی، جس پر تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بوئنگ کے 737 طیارے رینٹن کے روایتی پیداواری مرکز سے باہر بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی رکن کانگریس الہان عمر کے خلاف تحقیقات ،ملک بدری کا امکان
ہرگز نہیں! انجنوں کی کمی، طیاروں کے پروں کی تیاری میں سست رفتاری اور پرزوں کی فراہمی میں رکاوٹیں اب بھی بوئنگ کی رفتار محدود کر رہی ہیں۔ کمپنی کے سربراہ بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ پیداوار کو مطلوبہ سطح پر مستحکم کرنا توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔دوسری جانب یورپی حریف ایئربس بھی میدان میں پیچھے نہیں۔ 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں ایئربس نے اے 320 خاندان کے 369 طیارے فراہم کیے، یعنی تقریباً 46 طیارے ماہانہ، جبکہ بوئنگ کی اوسط 40 طیارے ماہانہ رہی۔
اب مقابلہ صرف یہ نہیں کہ کون زیادہ طیارے بناتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کون کم وقت میں، زیادہ تعداد میں اور قابلِ اعتماد انداز میں طیارے فراہم کر سکتا ہے۔ بوئنگ کی نئی اسمبلی لائن اس دوڑ میں اہم قدم ہے، لیکن 70 طیارے ماہانہ کا خواب پورا کرنے کے لیے کمپنی کو پیداواری رکاوٹوں پر قابو پانا ہوگا۔












