اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے واضح کیا ہے کہ حکومت نجکاری کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے لیے کوئی طیارہ خرید نہیں رہی اور نہ ہی نئے طیاروں کی خریداری کے لیے سرکاری خزانے سے قرض یا حکومتی ضمانت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ پی آئی اے کے لیے نئے طیاروں کی خریداری سے متعلق سماجی رابطوں پر گردش کرنے والی اطلاعات درست نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا کردار نجی شعبے کے کاروبار کو چلانا نہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی اور طیارہ ساز کمپنیوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حج 2027ء کے لیے غیر ملکی عازمین کو جامع پیکیج فراہم کرنے کا اعلان
یہ وضاحت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی برآمدی درآمدی بینک کے سربراہ جان جویانووچ کے درمیان نیویارک میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی۔وزارت خزانہ کے مطابق ملاقات میں ریکوڈک منصوبے سمیت پی آئی اے کے لیے طیاروں کی ممکنہ خریداری کے مالی انتظامات پر بھی بات ہوئی۔ وزیر خزانہ نے پی آئی اے کی بوئنگ 787 طیاروں میں دلچسپی سے آگاہ کرتے ہوئے طیاروں اور ان کے انجنوں کی خریداری کے لیے مالی معاونت کی درخواست کی تھی۔
خرم شہزاد کے مطابق امریکی برآمدی درآمدی بینک کا بنیادی مقصد امریکی مصنوعات اور روزگار کے فروغ کے لیے بیرون ملک خریداروں کو مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ بوئنگ کے طیارے امریکی برآمدات میں شامل ہیں، اس لیے امریکی بینک بیرون ملک خریداروں اور فضائی کمپنیوں کو طے شدہ مالیاتی طریقہ کار کے تحت قرض فراہم کرسکتا ہے۔












