لاہور(پاک ترک نیوز) پنجاب حکومت نے نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ کے بعد صوبے کی تمام 40 ضلعی کونسلز کے فنڈز منجمد کردیے، جس کے نتیجے میں راولپنڈی ڈسٹرکٹ کونسل کے 286 چھوٹے بڑے ترقیاتی منصوبے بھی منسوخ ہوگئے۔
ضلعی کونسلز کے فنڈز نئے قائم کیے گئے تحصیل کونسلز کو منتقل کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے، جبکہ ضلعی کونسل میں رجسٹرڈ ٹھیکیداروں کو بھی متعلقہ تحصیل کونسلز میں رجسٹر کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق صرف وہ ترقیاتی منصوبے جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جو تکمیل کے آخری مرحلے میں ہیں، جبکہ دیگر تمام گرانٹس اور ترقیاتی فنڈز کا کنٹرول نئی تشکیل دی گئی تحصیل کونسلز کے حوالے کردیا گیا ہے۔
اس سے قبل راولپنڈی ڈسٹرکٹ کونسل نے 7 ارب 84 کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا تھا، جس میں تقریباً 3 ارب روپے مقامی سطح کی گرانٹس اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے تھے۔
ضلعی کونسل کے فنڈز منجمد ہونے کے بعد راولپنڈی ضلع میں نئے واٹر سپلائی منصوبے اور گرانٹ سے متعلق ترقیاتی منصوبے اب نئی قائم ہونے والی تحصیل کونسلز اور واسا کے ذریعے مکمل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں اسکول کب کھلیں گے ،تاریخ سامنے آ گئی
ضلعی کونسل کی جانب سے پہلے شروع کیے گئے واٹر سپلائی منصوبوں کی تکمیل بھی واسا کرے گا۔ چہان ڈیم واٹر سپلائی منصوبہ بھی واسا کے حوالے کردیا گیا ہے، جس کا مقصد روزانہ 12 ملین گیلن صاف پانی فراہم کرنا اور تقریباً 10 لاکھ افراد کو مستفید کرنا ہے۔
پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے حالیہ صاف پینے کے پانی کے پائلٹ منصوبے کے تحت راولپنڈی اور چکلالہ کے پسماندہ علاقوں میں پائپ لائن نیٹ ورک اور فلٹریشن پلانٹس کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی بھی شروع کردی گئی ہے۔












