لاہور( پاک ترک نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ والدین باہمی رضامندی سے نابالغ بچے کے نان نفقے کا حق کم یا ختم نہیں کرسکتے، کیونکہ بچے کا نان نفقہ والدین کا نہیں بلکہ خود بچے کا قانونی حق ہے۔جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے بچوں کے نان نفقے سے متعلق 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔عدالت نے والدین کی رضامندی سے نابالغ بچی اور اس کے بھائی کا نان نفقہ 30،30 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا۔تحریری فیصلے کے مطابق والدین آپس میں سمجھوتہ کرسکتے ہیں، تاہم بچے کے قانونی حق کا سودا نہیں کرسکتے۔ والدہ بطور سرپرست بچے کے نان نفقے کو معاف یا کم کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سی ٹی ڈی کے آپریشن ،13دہشت گرد گرفتار
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ صرف والدین کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کو قبول کرنے کی پابند نہیں۔ عدالت کو نان نفقہ مقرر کرتے وقت بچے کی ضروریات، فلاح و بہبود اور بہترین مفاد کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔فیصلے میں کہا گیا کہ نان نفقہ مقرر کرتے وقت والد کی مالی استطاعت اور سماجی حیثیت کو بھی مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔ والدین کی باہمی رضامندی سے زیادہ اہم بچے کی ضروریات اور اس کا مفاد ہے۔عدالت نے نابالغ بچی کی درخواست منظور کرتے ہوئے فیملی کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیا اور حکم دیا کہ بچوں کی ضروریات اور والد کی مالی استطاعت کا جائزہ لے کر نان نفقہ نئے سرے سے مقرر کیا جائے۔جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ والدین کسی سمجھوتے کے ذریعے نابالغ بچے کے قانونی حق کو کم یا ختم نہیں کرسکتے۔












