پیرس: (پاک ترک نیوز)کم لوگ جانتے ہیں کہ فرانس یورپ کا واحد ملک ہے جو اعلیٰ معیار اور باریک بینی کے ساتھ جنگی طیاروں کے انجن تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فرانس اکثر اپنے رافیل جنگی طیارے پر فخر کرتا ہے، مگر بہت کم لوگ اس طاقت کے اصل راز پر بات کرتے ہیں جو اسے فضا میں قائم رکھتا ہے—یعنی M88 انجن اور وہ ادارے جو اس کے مستقبل کو شکل دے رہے ہیں۔
اس کہانی کے مرکز میں فرانس کا دفاعی ادارہ DGA ہے، جو انجن ساز کمپنی Safran کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔پیرس کے جنوب میں واقع Saclay میں DGA کا ایک ایسا ٹیسٹ سینٹر موجود ہے جسے فرانسیسی حکام یورپ میں منفرد قرار دیتے ہیں۔
یہاں جنگی طیارے کے انجن کے لیے وہی فضا تخلیق کی جاتی ہے جو انتہائی بلندی اور تیز رفتاری پر موجود ہوتی ہے۔ یہ غیرمعمولی کنٹرول اور سخت ٹیسٹنگ فرانس کو وہ برتری دیتا ہے جو اس وقت کسی اور یورپی ملک کے پاس نہیں۔
یہ منصوبہ صرف انجن کو بہتر بنانے تک محدود نہیں۔ مقصد انجن کے اہم حصوں کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنا ہے تاکہ وہ انتہائی بلند درجۂ حرارت برداشت کر سکیں، ایندھن کم خرچ ہو، اور پوری سپلائی چین مکمل طور پر فرانس کے کنٹرول میں رہے۔
2025 سے DGA کی ٹیمیں M88 کے مستقبل کے ماڈلز کو ٹیسٹ اسٹینڈ پر چلا رہی ہیں، جہاں انہیں انتہائی سخت حالات میں آزمایا جا رہا ہے۔ بالکل ویسے جیسے رافیل کو بلند فضا میں تیز موڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔Saclay کی سہولت درجۂ حرارت، دباؤ اور نمی کو نہایت باریکی سے کنٹرول کر سکتی ہے۔
یہاں انجن کو ایسے حالات میں چلایا جاتا ہے جیسے طیارہ 15 ہزار میٹر کی بلندی پر، تقریباً Mach 1.5 کی رفتار سے پرواز کر رہا ہو، جہاں ہوا پتلی اور انتہائی سرد ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، انجن پر اچانک شدید گرم ہوا بھی ڈالی جاتی ہے تاکہ مسلسل اور سخت دباؤ کی نقل کی جا سکے۔ اس عمل کو “تیز رفتار عمر آزمائش” کہا جاتا ہے، جس سے انجینئرز چند گھنٹوں میں وہ نتائج حاصل کر لیتے ہیں جو عام حالات میں برسوں میں ملتے ہیں۔
ہر ٹیسٹ کے بعد انجن کو مکمل طور پر کھول کر جانچا جاتا ہے۔ پرزہ جات کو مائیکروسکوپ کے نیچے دیکھا جاتا ہے، اور بعض حصے مزید تحقیق کے لیے DGA کے دوسرے مراکز کو بھیجے جاتے ہیں۔
ہر دراڑ، بگاڑ یا رنگت میں تبدیلی ڈیزائن ماڈلز کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔اس وقت سب سے اہم منصوبہ “Turenne” کے نام سے جاری ہے، جو DGA کی فنڈنگ اور Safran کے اشتراک سے چل رہا ہے۔
اس کا فوکس جیٹ انجن کا سب سے حساس اور گرم حصہ ہے: ہائی پریشر ٹربائن۔ہائی پریشر ٹربائن دہن کے چیمبر کے فوراً بعد ہوتی ہے، جہاں گیس کا درجۂ حرارت 1800 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔
یہاں موجود نہایت چھوٹے بلیڈ انتہائی تیز رفتاری سے گھومتے ہیں، اور ذرا سی خرابی بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔Turenne کے تحت انجینئرز جدید سیرامکس، نئے میٹل سپر الائز اور حفاظتی کوٹنگز پر تجربات کر رہے ہیں تاکہ ٹربائن زیادہ درجۂ حرارت برداشت کر سکے۔
جتنا زیادہ درجۂ حرارت، اتنی ہی انجن کی طاقت اور کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔یورپ میں برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور اسپین جیسے مضبوط فضائی ادارے موجود ہیں، مگر فرانس ان چند ممالک میں شامل ہے جو جدید جنگی طیارے کا مکمل انجن خود ڈیزائن، ٹیسٹ اور تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس محدود کلب میں امریکا، روس اور اب چین بھی شامل ہیں۔












