پیرس ( پاک ترک نیوز) پاکستانی اور دوہری شہریت رکھنے والے پائلٹس بھی متاثر، فرانسیسی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں امتیازی سلوک کے قانونی سوالات اٹھا دیے گئےفرانس کی فضائی کمپنی ایئر فرانس اسرائیلی وزارتِ نقل و حمل کی ایسی ہدایات پر عمل کر رہی ہے جن کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ رکھنے والے ممالک کی شہریت رکھنے والے پائلٹس اور فضائی عملے کو اسرائیل جانے والی پروازوں اور اسرائیلی فضائی حدود میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس پابندی سے پاکستانی شہری بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
فرانسیسی ذرائع ابلاغ کی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی حکام نے یکم اکتوبر 2026 کو یہ ہدایات جاری کیں، جن میں 31 ممالک کی قومیت رکھنے والے عملے کو شامل کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں پاکستان، ایران، الجزائر اور تیونس سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایئر فرانس کی ایک اندرونی ہدایت میں پائلٹس اور فضائی میزبانوں کو مطلع کیا گیا کہ متعلقہ قومیت رکھنے والے ملازمین اسرائیل جانے والی پروازوں پر فرائض انجام نہیں دے سکیں گے۔ عملے کو دوسری شہریت ظاہر کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، جبکہ معلومات چھپانے کی صورت میں تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس پابندی کا اطلاق ان فرانسیسی شہریوں پر بھی ہو سکتا ہے جن کے پاس درج فہرست کسی ملک کی دوہری شہریت ہے۔ دوسری جانب مراکش اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک، جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں، اس قومیتی پابندی کی فہرست میں شامل نہیں بتائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی بڑھنے پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگائی گئی ،اعظم نذیر تارڑ
رپورٹ میں اس اقدام کو ایک مبینہ واقعے کے بعد سامنے آنے والی حفاظتی کارروائیوں سے بھی جوڑا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں ایک عمانی معاون پائلٹ نے طیارے پر قبضے کی کوشش کی۔ تاہم اس واقعے کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک اسرائیلی فضائی کمپنی نے بھی اپنے شعبۂ ہوا بازی کے تقریباً ڈھائی ہزار پائلٹس اور عملے کے افراد کی جانچ شروع کی ہے۔












