پیرس(پاک ترک نیوز)فضائی جنگ کا مستقبل بدلنے کی تیاری۔۔۔ فرانس نے جرمنی سے الگ ہو کر اپنے بل بوتے پر چھٹی نسل کے جنگی طیارے کی تیاری کا فیصلہ کر لیا۔ایک طرف سپر رافیل کو نئی ٹیکنالوجی اور انتہائی تیز رفتار میزائلوں سے لیس کرنے کا منصوبہ، تو دوسری طرف مصنوعی ذہانت سے چلنے والے جنگی ڈرونز کی تیاری! سوال یہ ہے، کیا فرانس فضائی طاقت کی نئی دوڑ میں اپنی الگ پہچان بنانے جا رہا ہے؟
فضا میں طاقت کی نئی جنگ شروع! فرانس اب مشترکہ منصوبے کا انتظار نہیں کرے گا، بلکہ خود بنائے گا مستقبل کا جنگی طیارہ! نئے منصوبے کا نام ہے اے سی ایف، جو موجودہ رافیل ایف فور کے بعد فرانسیسی فضائیہ کا اگلا بڑا جنگی طیارہ بننے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے 4582 واقعات
لیکن اصل سنسنی خیز منصوبہ ہے سپر رافیل کا نیا روپ! ایف فائیو نمونے میں جدید انجن، مصنوعی ذہانت، جدید برقی و نوری نظام اور جوہری دفاع کے لیے آواز سے کئی گنا تیز رفتار میزائل شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ یعنی ایسا جنگی نظام جس میں رفتار، جدید ٹیکنالوجی اور دور سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اہم کردار ادا کریں گی۔
اور کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی! فرانس جنگی طیارے کے ساتھ بغیر پائلٹ ڈرون کو بھی میدان میں اتارنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ہدف ہے دو ہزار اٹھائیس میں رافیل اور اس کے ساتھ پرواز کرنے والے ڈرون کی مشترکہ آزمائشی پرواز!
فرانس نے دو ہزار پینتیس تک اپنے جنگی طیاروں کی تعداد ایک سو ستر سے بڑھا کر کم از کم دو سو تیس کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ دو ہزار ستائیس میں نئے طیارے کے ابتدائی نمونے پر کام شروع کرنے اور دو ہزار انتیس میں پیداواری نمونے کی تیاری کا مرحلہ شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔
اب فضائی جنگ صرف طیاروں کی رفتار اور میزائلوں کی طاقت کا مقابلہ نہیں رہے گی۔۔۔ مصنوعی ذہانت، خودکار ڈرونز اور اگلی نسل کی ٹیکنالوجی بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے! فرانس کی یہ تیاری مستقبل کی فضائی جنگ کا نقشہ بدل پائے گی یا نہیں، اس کا جواب آنے والے برسوں میں سامنے آئے گا!











