ٹوکیو: (پاک ترک نیوز)جاپان نے دنیا کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کاشیوازاکی-کاریوا میں بجلی پیدا کرنے کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے چند گھنٹوں بعد ہی اسے معطل کر دیا ہے۔
پلانٹ کی آپریٹر کمپنی ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) کے مطابق ری ایکٹر کو فعال کرنے کے ابتدائی مراحل کے دوران ایک الارم بجنے کے بعد احتیاطی طور پر آپریشن روک دیا گیا۔
ٹیپکو کے ترجمان تاکاشی کوبایاشی کا کہنا ہے کہ ری ایکٹر اسٹارٹ اپ کے دوران الارم بجا، تاہم صورتحال مستحکم رہی اور پلانٹ کے باہر کسی قسم کے تابکار اثرات ریکارڈ نہیں کیے گئے۔
ان کے مطابق عوامی تحفظ کے حوالے سے کوئی خطرہ موجود نہیں۔ری ایکٹر نمبر چھ کو بدھ کے روز دوبارہ فعال کیا گیا تھا، تاہم یہ عمل ایک دن تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ اس سے قبل الارم سسٹم میں خرابی سامنے آئی تھی۔
یہ 2011 میں فوکوشیما کے جوہری حادثے کے بعد اس پلانٹ میں پہلا ری ایکٹر تھا جسے دوبارہ چلایا گیا۔واضح رہے کہ پندرہ سال قبل 9.0 شدت کے زلزلے اور سونامی کے باعث فوکوشیما کے جوہری بجلی گھر میں شدید حادثہ پیش آیا تھا، جس کے بعد جاپان نے اپنے تمام 54 نیوکلیئر ری ایکٹرز بند کر دیے تھے۔
اس حادثے کے نتیجے میں تابکار اخراج ہوا اور ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے انخلا کرنا پڑا، جن میں سے کئی آج بھی واپس نہیں آ سکے۔
ٹیپکو کے مطابق ری ایکٹر نمبر چھ کو منگل کے روز دوبارہ فعال کیا جانا تھا، تاہم تکنیکی خرابی کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ری ایکٹر اگلے ماہ تجارتی بنیادوں پر بجلی پیدا کرنا شروع کرے گا، تاہم حالیہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال یہ واضح نہیں کہ آپریشن کب بحال ہوگا۔
ادھر کاشیوازاکی-کاریوا کے ری ایکٹر نمبر سات کو 2030 سے قبل فعال کیے جانے کا امکان نہیں، جبکہ باقی پانچ ری ایکٹرز کو مستقل طور پر بند کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس طرح یہ پاور پلانٹ ماضی کے مقابلے میں کہیں کم پیداواری صلاحیت کے ساتھ کام کرے گا۔ری ایکٹر نمبر چھ کو دوبارہ چلانے کے فیصلے پر مقامی آبادی کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
گزشتہ ہفتے ٹیپکو کے ہیڈکوارٹرز کے باہر احتجاج کیا گیا، جبکہ دسمبر میں نیگاٹا صوبائی اسمبلی کے باہر سینکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا تھا۔جاپان ماضی میں جوہری توانائی کے استعمال میں نمایاں رہا ہے اور 2011 سے قبل ملک کی تقریباً 30 فیصد بجلی جوہری ذرائع سے حاصل کی جاتی تھی، جبکہ حکومت کا ہدف تھا کہ 2030 تک یہ شرح 50 فیصد تک پہنچائی جائے۔
فوکوشیما حادثے کے بعد جاپان نے اپنی جوہری تنصیبات بند کر دیں، تاہم گزشتہ ایک دہائی سے حکومت ماحولیاتی اہداف کے تحت جوہری پلانٹس کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ 2050 تک نیٹ زیرو اخراج کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ 2015 کے بعد اب تک جاپان 33 میں سے 15 قابلِ استعمال ری ایکٹرز دوبارہ چلا چکا ہے۔












