جمعہ , 16 اکتوبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

فرانس کا چھٹی نسل کے جنگی طیارے کی تیاری اکیلے آگے بڑھانے کا فیصلہ، رافیل ایف فائیو جوہری دفاع کا اہم سہارا بن گیا

1 دن پہلے
A A
France decides to proceed solo with the development of a sixth-generation combat aircraft; the Rafale F5 has emerged as a key pillar of its nuclear deterrent.
Share on Facebookwhatsapp

پیرس ( پاک ترک نیوز) یورپی مشترکہ جنگی طیارے کا منصوبہ اختلافات کی نذر، فرانس نے اپنے مستقبل کے لڑاکا طیارے کی تیاری کا راستہ اختیار کر لیا؛ جدید ریڈار، مصنوعی ذہانت، طاقتور انجن اور بغیر پائلٹ جنگی طیاروں کے ساتھ نئی جنگی حکمت عملی پر کام جاری۔فرانس نے چھٹی نسل کے جدید جنگی طیارے کی تیاری کے لیے قومی منصوبے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یورپی ممالک کا مشترکہ مستقبل کا جنگی فضائی نظام منصوبہ اپنے لڑاکا طیارے کے حصے پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہونے کے بعد اب فرانس اپنے دفاعی تقاضوں کے مطابق نیا طیارہ تیار کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔

اس حکمت عملی میں موجودہ رافیل جنگی طیارے کا جدید ترین مجوزہ معیار رافیل ایف فائیو مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کا مقصد فرانس کی جوہری دفاعی صلاحیت، بحری بیڑوں سے جنگی کارروائیوں اور فضائی قوت کو برقرار رکھنا ہے، جب تک نئی نسل کا طیارہ تیار نہیں ہو جاتا۔ فرانس، جرمنی اور اسپین نے مشترکہ مستقبل کے جنگی فضائی نظام کے ذریعے جدید لڑاکا طیارے، بغیر پائلٹ معاون جنگی آلات اور مربوط فضائی معلوماتی نظام تیار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔تاہم طیارے کی تیاری کی قیادت، صنعتی حصے داری، ٹیکنالوجی کی ملکیت اور فیصلہ سازی کے اختیارات پر اختلافات سامنے آئے۔ جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی منصوبے میں تعطل کی بنیادی وجہ دفاعی صنعتوں کے درمیان اختلافات کو قرار دیا۔فرانس کی کمپنی داسو ایوی ایشن اپنے طیارے کے بنیادی ڈیزائن اور تکنیکی فیصلوں پر واضح اختیار چاہتی تھی، جبکہ جرمنی اور اسپین کی جانب سے صنعتی شراکت داری میں مناسب حصے داری کی توقعات بھی اہم تھیں۔

اس صورت حال کے بعد فرانس نے اپنے قومی منصوبے کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کر دی ہے، جبکہ جرمنی اور اسپین کے لیے مستقبل کے جنگی طیاروں کے حوالے سے الگ راستے اختیار کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ رافیل ایف فائیو موجودہ رافیل طیارے کا جدید ترقی یافتہ معیار ہوگا، مکمل طور پر نیا طیارہ نہیں۔ اس میں کئی اہم نظاموں کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔فرانس کا مقصد موجودہ طیارے کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرکے مستقبل کے تقاضوں کے مطابق بنانا ہے۔ تاہم ان صلاحیتوں کی حقیقی افادیت کا فیصلہ آزمائشی مراحل اور عملی کارکردگی سے ہوگا۔فرانس مستقبل میں رافیل کے ساتھ ایسے بغیر پائلٹ جنگی طیارے استعمال کرنے کا تصور بھی آگے بڑھا رہا ہے جو نگرانی، دشمن کے دفاعی نظاموں میں خلل ڈالنے اور حملوں میں معاونت جیسے کام انجام دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کے چاند مشن آرٹیمس تھری کی تیاریاں تیز، راکٹ کے بوسٹرز اور چار انجن نصب

اس حکمت عملی کے تحت پائلٹ والا طیارہ دوسرے معاون طیاروں سے حاصل ہونے والی معلومات استعمال کر سکے گا اور مختلف پلیٹ فارموں کے درمیان جنگی ذمہ داریاں تقسیم کی جا سکیں گی۔تاہم اس نظام کی کامیابی محفوظ مواصلات، جدید سافٹ ویئر، برقی مداخلت کے باوجود رابطے اور بغیر پائلٹ طیاروں کی قابلِ اعتماد کارکردگی پر منحصر ہوگی۔فرانس کے لیے مستقبل کا جنگی طیارہ صرف فضائی لڑائی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کی جوہری دفاعی حکمت عملی کا بھی اہم حصہ ہوگا۔ نئے طیارے کو جوہری ہتھیار لے جانے اور طیارہ بردار بحری جہازوں سے کارروائی کرنے کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی۔اسی لیے فرانس کو نئی نسل کا طیارہ تیار ہونے تک رافیل کے جدید معیار کو قابلِ اعتماد اور مؤثر بنائے رکھنا ہوگا۔ مجوزہ ایف فائیو معیار کے لیے 2033 سے 2035 کے عرصے کو اہم سمجھا جا رہا ہے، جبکہ نئی نسل کے طیارے کی عملی صلاحیت 2040 کی دہائی کے آغاز میں حاصل کرنے کا ہدف زیرِ غور ہے۔نئے طیارے کے مظاہراتی نمونے کی پرواز تقریباً 2031 سے 2032 کے دوران متوقع بتائی گئی ہے۔ یہ منصوبہ جاتی اہداف ہیں، حتمی تکمیل یا فوج میں شمولیت کی ضمانت نہیں۔یورپی ممالک کے الگ الگ راستے اختیار کرنے سے دفاعی صنعت میں مسابقت بڑھے گی، لیکن اس کے ساتھ تحقیق، تیاری، تربیت اور دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافے کا امکان بھی ہے۔

فرانس کو ایک طرف موجودہ رافیل طیاروں کی صلاحیت برقرار رکھنا ہوگی اور دوسری جانب چھٹی نسل کے طیارے کے لیے جدید انجن، کم ریڈار شناخت، جدید سینسرز اور مربوط جنگی نظام تیار کرنا ہوں گے

موضوعات : franceRafalesixthgeneration
ShareSend

متعلقہ خبریں

فرانس کاسپر رافیل کو تیز رفتار میزائلوں سے لیس کرنےکا منصوبہ
تازہ ترین

فرانس کاسپر رافیل کو تیز رفتار میزائلوں سے لیس کرنےکا منصوبہ

13 اکتوبر , 2026
Impact of Israeli ban on Pakistani pilots, new rules implemented for Air France crew holding nationalities of 31 countries
تازہ ترین

پاکستانی پائلٹس پر اسرائیلی پابندی کے اثرات، ایئر فرانس کے 31ملکوں کی قومیت رکھنے والے عملے کے لیے نئے قوانین نافذ

13 اکتوبر , 2026
Over 29,700 Afghan nationals arrested in Turkey over nine months; deportation decision also made in France.
تازہ ترین

ترکیہ میں 9 ماہ کے دوران 29 ہزار 700 سے زائد افغان باشندے گرفتار، فرانس میں بھی ملک بدری کا فیصلہ

10 اکتوبر , 2026
Opposition to Iran's nuclear program reflects a double standard on the part of France Esmaeil Baghaei.
تازہ ترین

ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت فرانس کا دوہرا معیار ہے، اسماعیل بقائی

10 اکتوبر , 2026
France contacts Afghan Taliban government, prepares to deport hundreds of Afghan citizens
تازہ ترین

فرانس کا افغان طالبان حکومت سے رابطہ، سینکڑوں افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کی تیاری

9 اکتوبر , 2026
France successfully tests nuclear-capable missile from the sea.
تازہ ترین

فرانس کا ایٹمی صلاحیت رکھنے والے میزائل کا سمندر سے کامیاب تجربہ

8 اکتوبر , 2026
اگلی خبر
Canada’s plan to grant permanent residency to 1.14 million immigrants from 2026 to 2028

کینیڈا کا 2026 سے 2028 تک 11 لاکھ 40 ہزار تارکین وطن کو مستقل رہائش دینے کا منصوبہ

یہ بھی پڑھیں

Major espionage network via online advertisements exposed; serious allegations against an Israeli company.

آن لائن اشتہارات کے ذریعے جاسوسی کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، اسرائیلی کمپنی پر سنگین الزامات

16 اکتوبر , 2026
More than 164,000 citizens registered in Punjab's Green Credit Program

پنجاب کے گرین کریڈٹ پروگرام میں ایک لاکھ 64 ہزار سے زائد شہریوں کی رجسٹریشن

16 اکتوبر , 2026
Great news for tourists heading to Naran work has begun on a new road in Mansehra costing 600 million rupees.

ناران جانے والے سیاحوں کے لیے بڑی خوشخبری، مانسہرہ میں 60 کروڑ روپے کی نئی سڑک پر کام شروع

16 اکتوبر , 2026
Important announcement for Peshawar BRT passengers NADRA verification of the Zu Card has been made mandatory; the deadline is December 31.

پشاور بی آر ٹی کے مسافروں کے لیے اہم اعلان، زو کارڈ کی نادرا سے تصدیق لازمی قرار، آخری تاریخ 31 دسمبر

16 اکتوبر , 2026
School incident in Peshawar Governor orders new legislation for private schools.

پشاور میں اسکول حادثہ ،گورنر کا نجی اسکولوں کے لیے نئی قانون سازی کا حکم

16 اکتوبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔