پیرس ( پاک ترک نیوز) یورپی مشترکہ جنگی طیارے کا منصوبہ اختلافات کی نذر، فرانس نے اپنے مستقبل کے لڑاکا طیارے کی تیاری کا راستہ اختیار کر لیا؛ جدید ریڈار، مصنوعی ذہانت، طاقتور انجن اور بغیر پائلٹ جنگی طیاروں کے ساتھ نئی جنگی حکمت عملی پر کام جاری۔فرانس نے چھٹی نسل کے جدید جنگی طیارے کی تیاری کے لیے قومی منصوبے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یورپی ممالک کا مشترکہ مستقبل کا جنگی فضائی نظام منصوبہ اپنے لڑاکا طیارے کے حصے پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہونے کے بعد اب فرانس اپنے دفاعی تقاضوں کے مطابق نیا طیارہ تیار کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
اس حکمت عملی میں موجودہ رافیل جنگی طیارے کا جدید ترین مجوزہ معیار رافیل ایف فائیو مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کا مقصد فرانس کی جوہری دفاعی صلاحیت، بحری بیڑوں سے جنگی کارروائیوں اور فضائی قوت کو برقرار رکھنا ہے، جب تک نئی نسل کا طیارہ تیار نہیں ہو جاتا۔ فرانس، جرمنی اور اسپین نے مشترکہ مستقبل کے جنگی فضائی نظام کے ذریعے جدید لڑاکا طیارے، بغیر پائلٹ معاون جنگی آلات اور مربوط فضائی معلوماتی نظام تیار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔تاہم طیارے کی تیاری کی قیادت، صنعتی حصے داری، ٹیکنالوجی کی ملکیت اور فیصلہ سازی کے اختیارات پر اختلافات سامنے آئے۔ جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی منصوبے میں تعطل کی بنیادی وجہ دفاعی صنعتوں کے درمیان اختلافات کو قرار دیا۔فرانس کی کمپنی داسو ایوی ایشن اپنے طیارے کے بنیادی ڈیزائن اور تکنیکی فیصلوں پر واضح اختیار چاہتی تھی، جبکہ جرمنی اور اسپین کی جانب سے صنعتی شراکت داری میں مناسب حصے داری کی توقعات بھی اہم تھیں۔
اس صورت حال کے بعد فرانس نے اپنے قومی منصوبے کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کر دی ہے، جبکہ جرمنی اور اسپین کے لیے مستقبل کے جنگی طیاروں کے حوالے سے الگ راستے اختیار کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ رافیل ایف فائیو موجودہ رافیل طیارے کا جدید ترقی یافتہ معیار ہوگا، مکمل طور پر نیا طیارہ نہیں۔ اس میں کئی اہم نظاموں کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔فرانس کا مقصد موجودہ طیارے کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرکے مستقبل کے تقاضوں کے مطابق بنانا ہے۔ تاہم ان صلاحیتوں کی حقیقی افادیت کا فیصلہ آزمائشی مراحل اور عملی کارکردگی سے ہوگا۔فرانس مستقبل میں رافیل کے ساتھ ایسے بغیر پائلٹ جنگی طیارے استعمال کرنے کا تصور بھی آگے بڑھا رہا ہے جو نگرانی، دشمن کے دفاعی نظاموں میں خلل ڈالنے اور حملوں میں معاونت جیسے کام انجام دے سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کے چاند مشن آرٹیمس تھری کی تیاریاں تیز، راکٹ کے بوسٹرز اور چار انجن نصب
اس حکمت عملی کے تحت پائلٹ والا طیارہ دوسرے معاون طیاروں سے حاصل ہونے والی معلومات استعمال کر سکے گا اور مختلف پلیٹ فارموں کے درمیان جنگی ذمہ داریاں تقسیم کی جا سکیں گی۔تاہم اس نظام کی کامیابی محفوظ مواصلات، جدید سافٹ ویئر، برقی مداخلت کے باوجود رابطے اور بغیر پائلٹ طیاروں کی قابلِ اعتماد کارکردگی پر منحصر ہوگی۔فرانس کے لیے مستقبل کا جنگی طیارہ صرف فضائی لڑائی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کی جوہری دفاعی حکمت عملی کا بھی اہم حصہ ہوگا۔ نئے طیارے کو جوہری ہتھیار لے جانے اور طیارہ بردار بحری جہازوں سے کارروائی کرنے کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی۔اسی لیے فرانس کو نئی نسل کا طیارہ تیار ہونے تک رافیل کے جدید معیار کو قابلِ اعتماد اور مؤثر بنائے رکھنا ہوگا۔ مجوزہ ایف فائیو معیار کے لیے 2033 سے 2035 کے عرصے کو اہم سمجھا جا رہا ہے، جبکہ نئی نسل کے طیارے کی عملی صلاحیت 2040 کی دہائی کے آغاز میں حاصل کرنے کا ہدف زیرِ غور ہے۔نئے طیارے کے مظاہراتی نمونے کی پرواز تقریباً 2031 سے 2032 کے دوران متوقع بتائی گئی ہے۔ یہ منصوبہ جاتی اہداف ہیں، حتمی تکمیل یا فوج میں شمولیت کی ضمانت نہیں۔یورپی ممالک کے الگ الگ راستے اختیار کرنے سے دفاعی صنعت میں مسابقت بڑھے گی، لیکن اس کے ساتھ تحقیق، تیاری، تربیت اور دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافے کا امکان بھی ہے۔
فرانس کو ایک طرف موجودہ رافیل طیاروں کی صلاحیت برقرار رکھنا ہوگی اور دوسری جانب چھٹی نسل کے طیارے کے لیے جدید انجن، کم ریڈار شناخت، جدید سینسرز اور مربوط جنگی نظام تیار کرنا ہوں گے












