اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان میں جولائی 2026 کے دوران بجلی کی پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر 7 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار 15 ہزار 122 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں بجلی کی پیداوار رواں ماہ کے اعتبار سے دوسری بلند ترین سطح پر رہی، جبکہ پن بجلی، مقامی کوئلے اور درآمدی کوئلے سے پیداوار جولائی کے لیے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق پن بجلی کی پیداوار 6 فیصد اضافے سے 6 ہزار 19 گیگا واٹ آور رہی، جبکہ مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 10 فیصد بڑھ کر ایک ہزار 650 گیگا واٹ آور ہوگئی۔
درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں 90 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ایک ہزار 140 گیگا واٹ آور سے بڑھ کر 2 ہزار 169 گیگا واٹ آور ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: سولر کا بڑھتا رجحان ،سرکاری بجلی کی طلب کم
دوسری جانب آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار میں 33 فیصد کمی ہوئی اور یہ ایک ہزار 629 گیگا واٹ آور رہی، جبکہ گیس سے بجلی کی پیداوار 9 فیصد کمی کے بعد 990 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی۔
جولائی میں مجموعی بجلی پیداوار میں پن بجلی کا حصہ 39.8 فیصد رہا، درآمدی کوئلے کا 14.3 فیصد، ایٹمی بجلی کا 10.1 فیصد اور مقامی کوئلے کا حصہ 10.9 فیصد رہا، جبکہ آر ایل این جی سے پیداوار کا حصہ 10.8 فیصد تھا۔
بجلی کی مجموعی پیداوار بڑھنے کے باوجود اوسط پیداواری لاگت میں 38 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 7.78 روپے سے بڑھ کر 10.75 روپے فی یونٹ ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 115 فیصد اضافے کے بعد 47.38 روپے فی یونٹ جبکہ فرنس آئل سے بجلی کی پیداواری لاگت 61 فیصد اضافے سے 50.08 روپے فی یونٹ ہوگئی۔ درآمدی کوئلے سے بجلی کی لاگت 13 فیصد اضافے کے بعد 16.33 روپے فی یونٹ رہی۔
زیادہ پیداواری لاگت کے باعث بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے جولائی 2026 کے لیے 2.52 روپے فی یونٹ مثبت فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی درخواست کی ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق یہ درخواست جون 2024 کے بعد سب سے زیادہ ہے، جس کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔












