اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) ملک میں بجلی کی طلب میں کمی اور چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کے تیزی سے بڑھتے رجحان کے باعث 1,832 میگاواٹ صلاحیت کے تین بڑے پن بجلی منصوبوں پر عملدرآمد مزید مؤخر ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ نے تین ہائیڈرو پاور منصوبوں کو فی الحال مؤخر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ یہ منصوبے انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان کی کم لاگت پر مبنی منصوبہ بندی میں شامل نہیں ہو سکے۔
مالی سال 2024-25 کے آڈٹ کے دوران انکشاف ہوا کہ 700.7 میگاواٹ آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 1,124 میگاواٹ کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 8 میگاواٹ کتھائی ٹو منصوبہ مالیاتی بندش مکمل نہ ہونے کے باعث تاحال شروع نہیں کیے جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق آزاد پتن ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 جون 2016 کو لیٹر آف سپورٹ جاری کیا گیا تھا، تاہم سائنوشور سے متعلق مالیاتی مسائل کے باعث منصوبہ 31 دسمبر 2024 تک بھی مالیاتی بندش حاصل نہ کر سکا، حالانکہ اس کی مدت میں پانچ مرتبہ توسیع کی جا چکی تھی۔
منصوبے کے اسپانسر نے دسمبر 2027 تک مزید توسیع کی درخواست کی، تاہم یکم اگست 2025 کو ہونے والے پی پی آئی بی بورڈ کے 148ویں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منصوبے کی موجودہ حیثیت برقرار رکھی جائے، جب تک سی پیک توانائی تعاون فہرست سے متعلق مشترکہ جائزہ مکمل نہیں ہو جاتا، کیونکہ یہ منصوبہ آئی جی سی ای پی 2025-2035 کے مسودے میں شامل نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 1530میگا واٹ پن بجلی کا تربیلا5 توسیعی منصوبہ تکمیل کےقریب پہنچ گیا
اسی طرح کوہالہ ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 31 دسمبر 2015 کو لیٹر آف سپورٹ جاری کیا گیا تھا، مگر متعدد بار توسیع ملنے کے باوجود یہ منصوبہ بھی 30 ستمبر 2027 تک مالیاتی بندش حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
دوسری جانب کتھائی ٹو ہائیڈرو پاور منصوبہ، جس کے لیے 20 نومبر 2019 کو لیٹر آف سپورٹ جاری کیا گیا تھا، معیاری منصوبہ جاتی دستاویزات کی عدم دستیابی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی سے منظوری میں تاخیر کے باعث آگے نہ بڑھ سکا۔












