لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان میں بجلی 14 روپے فی یونٹ تک سستی ہو سکتی ہے، ماہرین نے بجلی کے شعبے میں بڑے اصلاحاتی منصوبے کی تجویز دے دی۔ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے بجلی کی پیداواری لاگت تقریباً 14 روپے فی یونٹ تک لائی جا سکتی ہے، جس سے صنعتوں کو سستی بجلی میسر آئے گی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور ملکی معیشت کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے کے تازہ اعداد و شمار پر مبنی تجزیے کے مطابق پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ پہلے ہی کم لاگت والے مقامی اور قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ اصل مسئلہ مہنگے درآمدی ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی اور بجلی گھروں کی کم استعداد پر چلنے کی وجہ سے بڑھنے والے کیپیسٹی چارجز ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک کی 75 فیصد سے زائد بجلی قابلِ تجدید اور مقامی ذرائع سے پیدا ہوتی ہے، جس کی اوسط پیداواری لاگت صرف 5 روپے فی یونٹ ہے۔ اس کے برعکس درآمدی ایندھن سے پیدا ہونے والی ایک محدود مقدار کی بجلی کی لاگت 43 روپے سے زائد فی یونٹ تک پہنچ جاتی ہے، جو مجموعی لاگت میں نمایاں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جائے اور بجلی گھروں کو معاشی ترجیح کے مطابق چلایا جائے تو پیداواری لاگت میں نمایاں کمی ممکن ہے۔تجزیے کے مطابق پاکستان میں اس وقت 41 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن طلب کم ہونے کے باعث بجلی گھر اپنی استعداد کا صرف 37.5 فیصد استعمال کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت کو بجلی نہ لینے کے باوجود پاور پلانٹس کو بھاری کیپیسٹی چارجز ادا کرنا پڑتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معیشت کو کیش لیس نظام پر منتقل کرنے سے معاشی ترقی ہوگی،وزیراعظم
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے کر بجلی کی طلب بڑھائی جائے اور بجلی گھروں کا استعمال 75 فیصد تک پہنچ جائے تو کیپیسٹی چارجز تقریباً نصف رہ جائیں گے، جبکہ مجموعی پیداواری لاگت کم ہو کر 13.95 روپے فی یونٹ تک آ سکتی ہے۔
ماہرین نے موسم گرما میں بجلی کی زیادہ طلب پوری کرنے کے لیے نئے مہنگے بجلی گھروں کی تعمیر کے بجائے موجودہ جدید گیس پاور پلانٹس، پن بجلی، بیٹری اسٹوریج سسٹمز اور پمپڈ اسٹوریج منصوبوں سے بہتر استفادہ کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی لاگت اور صارفین سے وصول کیے جانے والے نرخ میں بڑا فرق موجود ہے۔ اس وقت بجلی کی پیداواری قیمت تقریباً 23 روپے فی یونٹ ہے، لیکن فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز، ٹیکسز اور دیگر اضافی چارجز کے باعث صارفین کو 45 سے 65 روپے یا اس سے بھی زیادہ فی یونٹ ادا کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بجلی کے شعبے میں حقیقی اصلاحات اسی وقت ممکن ہوں گی جب مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جائے، ڈسکوز کی کارکردگی بہتر بنائی جائے، بجلی چوری اور لائن لاسز پر قابو پایا جائے اور مسابقتی بجلی مارکیٹ کے نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ان اصلاحات پر عمل کیا جائے تو پاکستان نہ صرف صنعتوں کو عالمی معیار کی سستی بجلی فراہم کر سکے گا بلکہ برآمدات، سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔












