اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) ملک کے پاور سیکٹر نے بجلی کی ترسیل کا نظام جدید بنانے اور نظام کو مستحکم کرنے کے لیے 2030 تک کے اہم اہداف مقرر کرلیے۔
دستاویز کے مطابق ملک کے جنوبی حصے میں موجود پاور پلانٹس سے بجلی کی ترسیل کے لیے 190 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ جنوبی علاقوں میں قائم پاور پلانٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 10 ہزار میگاواٹ سے زائد ہے۔
منصوبے کے تحت 10 ہزار میگاواٹ سے زائد صلاحیت رکھنے والے پاور پلانٹس سے بجلی کی ترسیل کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، جبکہ لوڈ ٹرپنگ اور ونڈ ٹرپ پینلز کو بہتر نظامِ تحفظ کے لیے ایس سی ایس کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کیا جائے گا۔
دستاویز کے مطابق بجلی کی ترسیلی صلاحیت اور نظام کے استحکام میں بہتری کے لیے 2 ہزار ایم وی اے کا سسٹم نصب کیا جائے گا۔
ٹرانسمیشن سسٹم میں ممکنہ خلل کے خدشات سے نمٹنے کے لیے 500 سے 1000 میگاواٹ کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز بھی نصب کیے جائیں گے۔
بیٹری اسٹوریج سسٹم کے ذریعے کم طلب کے اوقات میں بجلی کی پیداوار کم کرنے اور بجلی کے ضیاع کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین پر 9 ارب 80 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ
حکام نے ملک کے ترسیلی نظام کو مکمل طور پر بہتر بنانے کے لیے 2030 کا ہدف مقرر کیا ہے۔ دوسری جانب نیپرا اپنی متعدد رپورٹس اور فیصلوں میں بجلی کے ترسیلی نظام میں موجود نقائص کی نشاندہی کرچکا ہے۔
منصوبے پر عملدرآمد سے بجلی کی ترسیل میں رکاوٹیں کم ہونے، نظام کے استحکام میں بہتری اور جنوبی پاور پلانٹس کی پیداواری صلاحیت سے بہتر استفادے کی توقع ہے۔











