اسلام آباد (پاک ترک نیوز )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کی بات سننا اور ان کے مسائل کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسائل کے حل کا بہترین طریقہ باہمی گفت و شنید، مشاورت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ بلوچستان کے مسائل بھی ڈائیلاگ کے ذریعے حل کیے جانے چاہییں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے، اگر کوئی مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں تو انہیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے مل کر آگے بڑھیں۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ مسائل کی آڑ میں کوئی محب وطن شخص بندوق نہیں اٹھا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں علاقے کی بنیاد پر شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا، جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے دشمن ممالک ملوث ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت فیلڈ مارشل کے ساتھ مل کر کراچی سے چمن تک این اے 25 شاہراہ تعمیر کر رہی ہے، تاہم بدقسمتی سے اس اہم منصوبے پر کام کرنے والے مزدوروں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہاڑوں میں کام کرنے والا مزدور بلوچستان کی خوشحالی اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے مسائل اور چیلنجز کو باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معرکۂ حق کے دوران پوری قوم یک جان دو قالب تھی اور قومی یکجہتی نے پاکستان کی طاقت کو مزید مضبوط کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گوادر کا ہوائی اڈا چین کی جانب سے پاکستان کے لیے تحفہ ہے، جو پاک چین دوستی اور باہمی تعاون کی ایک نمایاں مثال ہے۔












