بیجنگ (پاک ترک نیوز) یورپ میں پانچویں نسل کے مواصلاتی نظام سے چینی کمپنی کے آلات ہٹانے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر یورپی ممالک چینی کمپنی کے آلات کو مکمل طور پر تبدیل کرتے ہیں تو اس پر تقریباً 35 ارب یورو خرچ ہوں گے، جس سے نہ صرف ٹیلی کمیونی کیشن کا شعبہ متاثر ہوگا بلکہ صارفین پر بھی اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
موبائل صنعت کی عالمی تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ کے کئی ممالک کے مواصلاتی نیٹ ورک اب بھی بڑی حد تک چینی کمپنی کے آلات پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر یورپی یونین کی مجوزہ پالیسی کے مطابق ان آلات کو لازمی طور پر ہٹایا گیا تو کمپنیوں کو اربوں یورو کی سرمایہ کاری کرنا پڑے گی۔
رپورٹ کے مطابق چینی کمپنی کے آلات کو صرف موبائل نیٹ ورک سے ہٹانے پر بھی تقریباً 19 ارب یورو لاگت آئے گی، جبکہ اگر فکسڈ نیٹ ورک اور دیگر مواصلاتی ڈھانچے کو بھی شامل کیا جائے تو مجموعی لاگت 35 ارب یورو تک پہنچ سکتی ہے۔
دوسری جانب یورپی کمیشن اور کئی دفاعی ماہرین کا مؤقف ہے کہ معاملہ صرف اخراجات کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بھی ہے۔ ان کے مطابق خدشہ ہے کہ حساس مواصلاتی نظام میں ایسے آلات موجود ہوں جن کے ذریعے خفیہ معلومات تک رسائی یا اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا جا سکے، اگرچہ اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
چینی کمپنی مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتی آئی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایک آزاد تجارتی ادارہ ہے، اس کا کسی حکومتی ادارے سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اپنے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے عالمی معیار پر عمل کرتی ہے۔
دوسری طرف یورپ کی معروف مواصلاتی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اگر چینی کمپنی پر پابندی عائد ہوتی ہے تو انہیں نئے آلات کی تنصیب، نیٹ ورک کی تبدیلی اور سروس کی منتقلی پر بھاری سرمایہ خرچ کرنا ہوگا، جس کے اثرات صارفین تک بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے جے20 اسٹیلتھ کا پہلا اپ گریڈڈ جنگی طیارہ فضائیہ کے حوالے کردیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا اصل ہدف پانچویں نسل کے مواصلاتی نظام کو محفوظ بنانا ہے، تاہم کئی ممالک پہلے ہی چینی کمپنی کے آلات کو مرحلہ وار تبدیل کرنے کا عمل شروع کر چکے ہیں۔
ادھر یورپ کی مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ چینی کمپنی کو اپنے ملک کی وسیع منڈی کی وجہ سے مالی برتری حاصل ہے، جس کے باعث وہ یورپی کمپنیوں کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر آلات فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یورپ کی اپنی ٹیکنالوجی صنعت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔












