بیجنگ (پاک ترک نیوز )چین نے مغربی بحرالکاہل میں سمندر کی گہرائی میں ایک بڑے ہائی ٹمپریچر ہائیڈرو تھرمل فیلڈ کی دریافت کرلی، جہاں موجود معدنی ذخائر میں سونے اور چاندی کی غیر معمولی مقدار سامنے آئی ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ دریافت چین کی سرحدی سمندری حدود میں واقع ایک بیک آرک بیسن میں کی گئی۔ اس علاقے میں چین کے ماہرین پہلے بھی 10 سے زائد مرتبہ سروے کرچکے ہیں، جہاں تقریباً 700 سے 1500 میٹر کی گہرائی میں درجنوں ہائی ٹمپریچر ہائیڈرو تھرمل وینٹس کی نشاندہی ہوئی تھی۔ ان وینٹس سے نکلنے والے گرم سیال کا درجہ حرارت 315 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
تازہ مہم میں چینی تحقیقی اداروں کی ٹیم نے سمندر کی تہہ کا مزید تفصیلی جائزہ لیا اور موقع پر معدنی نمونے حاصل کیے۔ تحقیق کے دوران ایک نیا اور وسیع ہائیڈرو تھرمل فیلڈ دریافت ہوا، جہاں معدنی ذخائر تین بڑے مخروطی ڈھانچوں کی شکل میں موجود ہیں۔
ابتدائی تجزیے کے مطابق یہاں پائے جانے والے معدنی ذخائر میں چیلکوپائرائٹ، پائرائٹ اور اسفالیرائٹ سمیت کئی اہم اقتصادی معدنیات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : چین کے چاند مشن میں بڑی تبدیلی
سب سے زیادہ حیران کن بات ان نمونوں میں سونے اور چاندی کی مقدار ہے۔ بعض نمونوں میں سونے کی مقدار 15.4 پارٹس پر ملین تک ریکارڈ کی گئی، جو تقریباً 15.4 گرام فی ٹن خام معدنیات بنتی ہے۔ اسی طرح بعض نمونوں میں چاندی کی مقدار 1,271 پارٹس پر ملین، یعنی تقریباً 1,271 گرام فی ٹن تک پائی گئی۔
چینی ماہرین کے ابتدائی اندازوں کے مطابق اس علاقے میں موجود ممکنہ کثیرالمعدنی سلفائیڈ ذخائر عالمی سطح کے سمندری معدنی ذخائر کے برابر ہوسکتے ہیں۔
یہ علاقہ یوریشین پلیٹ اور فلپائن سی پلیٹ کی حدود کے قریب واقع ہے، جہاں زیرِ زمین ارضیاتی سرگرمیاں انتہائی شدید ہیں۔
ماہرین کے مطابق سمندری پانی زمین کی تہہ میں موجود دراڑوں کے ذریعے نیچے جاتا ہے، جہاں میگما کی حرارت سے انتہائی گرم ہوجاتا ہے۔
یہ گرم سیال زمین کے اندر موجود مختلف دھاتوں کو اپنے ساتھ جذب کرلیتا ہے۔ جب یہ سیال دوبارہ سمندر کی ٹھنڈی تہہ تک پہنچتا ہے تو دھاتیں سلفر کے ساتھ مل کر ٹھوس معدنیات بنانا شروع کردیتی ہیں، جو وقت کے ساتھ سمندر کی تہہ پر جمع ہوتی رہتی ہیں۔
تحقیقی ٹیم نے معدنی ذخائر کے ساتھ سمندر کی انتہائی گہرائی میں موجود زندگی کی حیران کن تصاویر بھی حاصل کیں۔ یہاں جھینگوں، کیکڑوں، سیپ اور انتہائی سخت ماحول میں زندہ رہنے والے جانداروں کی آبادیاں موجود ہیں۔
تاہم سونے، چاندی، تانبے اور زنک کی اتنی زیادہ مقدار کے باوجود فی الحال ان ذخائر کی باقاعدہ کان کنی ممکن نہیں۔ سمندر کی انتہائی گہرائی میں شدید دباؤ، پیچیدہ ارضیاتی حالات اور تکنیکی مشکلات کے باعث اس طرح کے فعال ہائیڈرو تھرمل ذخائر سے معدنیات نکالنا ابھی ایک بڑا چیلنج ہے۔












