بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے اپنے جدید جے-20 اسٹیلتھ جنگی طیارے کا پہلا آزمائشی نمونہ فضائیہ کی انجینئرنگ یونیورسٹی کے زیر انتظام فضائی دیکھ بھال کے تربیتی ادارے کے حوالے کر دیا ہے، جہاں اسے مستقبل کے فنی عملے کی عملی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
چینی ذرائع کے مطابق 2004 نمبر والا یہ طیارہ جے-20 منصوبے کے ابتدائی آزمائشی نمونوں میں شامل تھا، جسے پروازی آزمائشوں کے بعد اب تعلیمی مقاصد کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔
تصاویر میں اس طیارے کو جے-7 جنگی طیارے کے ساتھ رکھا گیا ہے تاکہ تربیت حاصل کرنے والے اہلکار جدید اور پرانے دونوں طیاروں کے ڈھانچے، نظام اور دیکھ بھال کے طریقۂ کار سے عملی طور پر آگاہ ہو سکیں۔
رپورٹ کے مطابق جے-20 منصوبے کا پہلا آزمائشی طیارہ 2001 جنوری 2011 میں پہلی بار فضا میں بلند ہوا، جبکہ دوسرا نمونہ 2002 مئی 2012 میں سامنے آیا۔ بعد ازاں اسے نئے نمبر 2004 کے ساتھ مختلف آزمائشوں میں استعمال کیا گیا۔
ابتدائی آزمائشی طیارے موجودہ عملی جے-20 طیاروں سے نمایاں طور پر مختلف تھے۔ ان پر سیاہ رنگ کیا گیا تھا، ان میں روسی ساختہ انجن نصب تھے اور کئی ایسے تجرباتی آلات شامل تھے جنہیں بعد میں پیداوار کے دوران تبدیل یا بہتر بنا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہواوے کے اسمارٹ فونز کی مقبولیت اب بھی برقرار
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیداوار شروع ہونے کے بعد جے-20 میں مسلسل بہتری لائی جاتی رہی۔ 2021 کے بعد تیار ہونے والے طیاروں میں چینی ساختہ ڈبلیو ایس-10 سی انجن نصب کیے گئے، جبکہ جدید ترین جے-20 اے طیاروں میں زیادہ طاقتور ڈبلیو ایس-15 انجن استعمال کیے جا رہے ہیں، جن سے طیارے کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
چینی فضائیہ نے ابتدائی آزمائشی طیارے کو عجائب گھر کے بجائے تربیتی ادارے کے حوالے کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ مستقبل کے فنی ماہرین اسٹیلتھ جنگی طیاروں کی ساخت، دیکھ بھال اور جدید نظاموں کی عملی تربیت حاصل کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق چین اس وقت جے-20 جنگی طیاروں کی بڑے پیمانے پر پیداوار جاری رکھے ہوئے ہے اور اندازہ ہے کہ ہر سال تقریباً 120 جے-20 طیارے تیار کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث ان کی دیکھ بھال کے لیے تربیت یافتہ فنی عملے کی ضرورت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔












