بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے ڈرون ٹیکنالوجی میں ایک اور اہم پیش رفت کی جانب قدم بڑھا دیا ہے، جہاں فضائی ڈرونز کے ساتھ زمینی اور بحری بغیر پائلٹ نظاموں کو بھی ایک مشترکہ جنگی نیٹ ورک سے جوڑنے پر کام جاری ہے۔چین کے معروف دفاعی ٹیکنالوجی ادارے چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن کے ذہین ٹیکنالوجی تحقیقی ادارے کے مطابق ڈرونز کے جھنڈ پر مبنی نظام صرف بڑی تعداد میں ڈرونز کو ایک ساتھ اڑانے کا نام نہیں بلکہ ایک ذہین اور تقسیم شدہ جنگی نظام ہے۔
ادارے کے مطابق اس نظام میں متعدد بغیر پائلٹ آلات ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں، باہمی طور پر کارروائیوں میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں، مقامی سطح پر خود فیصلے کرتے ہیں اور اجتماعی طور پر جنگی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنگی طیارے اب انسان کے بغیر اڑیں گے
چین پہلے ہی ایک جیسے ڈرونز پر مشتمل جتھوں کی تیاری اور عملی استعمال میں نمایاں پیش رفت کرچکا ہے، تاہم اب اس کا طویل مدتی ہدف اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ نظام تیار کرنا ہے۔اس نئے نظام کے تحت مختلف اقسام کے بغیر پائلٹ پلیٹ فارم، یعنی فضائی ڈرونز، زمینی بغیر پائلٹ گاڑیاں اور بحری بغیر پائلٹ آلات، ایک ہی جنگی نیٹ ورک کے تحت باہمی رابطے اور تعاون کے قابل ہوں گے۔چینی ادارے کے مطابق مستقبل میں یہ نظام پورے جنگی علاقے میں بیک وقت کئی محاذوں پر کام کرنے والے بغیر پائلٹ آلات کو مربوط کرسکے گا۔ماہرین کے مطابق اگر چین اس ٹیکنالوجی کو کامیابی سے عملی شکل دینے میں کامیاب ہوگیا تو جنگی میدان میں ڈرونز کے استعمال کا تصور مزید تبدیل ہوسکتا ہے، کیونکہ ایک ہی نظام کے ذریعے فضا، زمین اور سمندر میں موجود بغیر پائلٹ پلیٹ فارم ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ کارروائی کرسکیں گے۔












