واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا نے خلا میں اپنا پہلا جنگی ہتھیار تعینات کرنے کا اعلان کردیا، امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے کہا ہے کہ خلا میں موجود یہ ہتھیار امریکی افواج کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔امریکی فضائیہ کے سیکریٹری کے مطابق یہ ہتھیار اس وقت مدار میں موجود ہے، تاہم اس کی مکمل صلاحیتوں اور نوعیت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔امریکی حکام کی جانب سے خلا میں کسی جارحانہ صلاحیت کے عملی طور پر موجود ہونے کا یہ پہلا کھلا اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا کئی برس سے چین اور روس پر خلا میں جارحانہ سرگرمیوں کی مشقوں کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق دونوں ممالک نے ایسے طریقوں پر کام کیا ہے جن میں لیزر اور مواصلاتی نظام میں خلل ڈالنے کی صلاحیت شامل ہے، جس سے امریکی مصنوعی سیاروں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔امریکی فضائیہ کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ مدار میں موجود اس جنگی صلاحیت کا مقصد امریکی افواج اور خلائی اثاثوں کا تحفظ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 13 شہری زخمی
تجزیہ کاروں کے مطابق خلا میں ہتھیاروں کی موجودگی سے امریکا، چین اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی خلائی مسابقت مزید شدت اختیار کرسکتی ہے، جبکہ مصنوعی سیاروں اور خلائی نظام کا تحفظ مستقبل کی جنگوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا۔












