ڈھاکہ ( پاک ترک نیوز) دنیا بھر میں جنگلی شیروں کی آبادی کئی دہائیوں کی مسلسل کمی کے بعد دوبارہ بڑھنے لگی ہے، تاہم بنگلہ دیش کے سندربن میں شیروں کی تعداد میں اضافہ عالمی رفتار کے مقابلے میں سست ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ سندربن کے منفرد ماحولیاتی حالات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات ہیں۔
بین الاقوامی اداروں کے مطابق ایک صدی قبل ایشیا کے جنگلات میں تقریباً ایک لاکھ جنگلی شیر موجود تھے، لیکن جنگلات کی کٹائی، غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے باعث 2010 تک ان کی تعداد کم ہو کر تقریباً 3 ہزار 200 رہ گئی تھی۔ بعد ازاں شیروں کے مسکن رکھنے والے 13 ممالک نے شیروں کی تعداد بڑھانے کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کیا، جس کا مقصد عالمی سطح پر ان کی آبادی کو دوگنا کرنا تھا
تازہ اعداد و شمار کے مطابق اب دنیا بھر میں جنگلی شیروں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 5 ہزار 500 سے 5 ہزار 800 کے درمیان پہنچ چکی ہے۔
بھارت اس وقت دنیا میں جنگلی شیروں کے تحفظ میں سرفہرست ہے، جہاں شیروں کی تعداد 2006 میں ایک ہزار 411 سے بڑھ کر 3 ہزار 680 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح نیپال میں بھی 2009 کے 121 شیروں کے مقابلے میں اب 429 جنگلی شیر موجود ہیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیش میں جنگلی شیر صرف سندربن کے جنگلات میں پائے جاتے ہیں، جو دنیا کا سب سے بڑا مینگروو جنگل ہے۔ سرکاری جائزوں کے مطابق ملک میں شیروں کی تعداد 2015 میں 106، 2018 میں 114 جبکہ 2024 میں بڑھ کر تقریباً 125 ہو گئی ہے۔
ڈھاکا یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور جنگلی حیات کے ماہر ڈاکٹر محمد انوارال اسلام کا کہنا ہے کہ اگرچہ شیروں کی تعداد میں اضافہ خوش آئند ہے، تاہم سندربن کے مینگروو ماحولیاتی نظام کی محدود گنجائش کے باعث یہاں شیروں کی آبادی میں تیز رفتار اضافہ ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واہگہ بارڈر پر پاکستانی رینجرز اہلکار کی بھارتی فوجی افسر کو سلامی، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
انہوں نے کہا کہ چیتل ہرن کے غیر قانونی شکار، مچھلی پکڑنے کے لیے دریاؤں اور نہروں میں زہر ڈالنے، جنگلاتی وسائل کے غیر پائیدار استعمال اور انسانی مداخلت کے باعث شیروں کی خوراک اور قدرتی مسکن متاثر ہو رہے ہیں، جس سے ان کی افزائشِ نسل محدود ہو جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی بھی سندربن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ سمندر کی سطح میں اضافہ، ساحلی کٹاؤ، پانی میں نمکیات کی بڑھتی مقدار اور شدید سمندری طوفان مستقبل میں اس منفرد جنگلاتی نظام کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق روس، بھوٹان، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں بھی شیروں کی آبادی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ملائیشیا، میانمار، کمبوڈیا، لاؤس اور ویتنام میں شیروں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے یا تقریباً ختم ہو چکی ہے۔












