انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ کی وزارت داخلہ نے سرمایہ کاری کے ذریعے ترک شہریت حاصل کرنے والے 6 ہزار 134 افراد کی شہریت منسوخ یا واپس لے لی۔ترک وزارت داخلہ کے مطابق متاثرہ افراد میں ایک ہزار 413 اصل سرمایہ کار جبکہ باقی ان کے شریک حیات اور بچے شامل ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق تحقیقات کے دوران ایک ہزار 150 سرمایہ کاروں کی جانب سے مشکوک یا غیر قانونی لین دین کی نشاندہی ہوئی۔ ان افراد کے سرمایہ کاری کے اہلیت سرٹیفکیٹس منسوخ کیے گئے، جس کے نتیجے میں ان کے خاندانوں سمیت 5 ہزار 391 افراد کی شہریت ختم کی گئی۔
دوسرے مرحلے میں 263 سرمایہ کاروں کو پولیس اور قومی انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے عوامی نظم و نسق اور قومی سلامتی کے حوالے سے ناموزوں قرار دیا گیا، جس کے بعد ان کے خاندانوں سمیت 743 افراد کی شہریت واپس لے لی گئی۔ حکام کے مطابق اس گروپ پر دھوکا دہی کا الزام نہیں بلکہ سکیورٹی جانچ کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔
ترک حکام کے مطابق 11 فروری 2026 سے اب تک سرمایہ کاری کی اہلیت منسوخ ہونے کے باعث مزید 443 سرمایہ کاروں اور ان کے اہل خانہ سمیت ایک ہزار 358 افراد کی شہریت ختم ہوئی، جبکہ سکیورٹی بنیادوں پر مزید 7 افراد کی شہریت واپس لی گئی۔
ترکیہ کے وزیر انصاف کے مطابق اسی معاملے سے جڑی ایک الگ کارروائی میں 90 مشتبہ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، جن میں سے 72 کو 16 صوبوں میں گرفتار کیا گیا۔ کارروائی کے دوران ایک ہزار 45 جائیدادیں، بودرم کا ایک ہوٹل، 15 گاڑیاں، ایک کشتی اور 10 بینک اکاؤنٹس تحویل میں لیے گئے جبکہ 7 کمپنیوں کو عدالتی نگران مقرر کیے گئے۔
حکام کے مطابق سرمایہ کاری کے عمل کے ذریعے ترکیہ میں داخل ہونیوالی تقریباً 2.5 ارب ترک لیرا کی رقم کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ ، جنگ کا نقشہ بدلنے والی جدید انفراریڈ ٹیکنالوجی تیار
ترک وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ شہریت کی منسوخی اور واپسی کے لیے ترک قانون کے متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ قانون کے مطابق اگر کسی شخص کی سرمایہ کاری کی بنیاد پر حاصل کردہ شہریت منسوخ ہو جائے تو اس کے شریک حیات اور وہ بچے بھی متاثر ہوسکتے ہیں جنہوں نے اسی درخواست کے ذریعے شہریت حاصل کی تھی۔
ترک حکام نے گزشتہ برسوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت حاصل کرنے کے لیے جائیداد کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں بھی کئی تبدیلیاں کی ہیں تاکہ جعلی یا مبالغہ آمیز جائیداد کی قیمتوں کے ذریعے شہریت حاصل کرنے کے امکانات ختم کیے جاسکیں۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت کے پورے نظام میں نگرانی اور جانچ کے عمل کو مزید سخت بنانے کا حصہ ہے۔












