انقرہ ( پاک ترک نیوز) دفاعی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ترکیہ نے ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی۔ اب رات کی تاریکی، دھواں، دھند اور خراب موسم بھی دشمن کو نہیں بچا سکے گا۔ ترکیہ نے جدید فوجی انفراریڈ ڈیٹیکٹر تیار کر لیے ہیں، جن کے بعد وہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو یہ حساس اور انتہائی جدید دفاعی ٹیکنالوجی خود تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ترکیہ کی معروف دفاعی کمپنی ایسیلسان نے اپنی نئی نسل کے انفراریڈ ڈیٹیکٹر متعارف کرا دیے ہیں۔کمپنی کے مطابق یہ جدید سینسر مکمل طور پر مقامی ٹیکنالوجی سے تیار کیے گئے ہیں اور انہیں بغیر پائلٹ طیاروں، فضائی دفاعی میزائلوں، جدید جنگی طیاروں، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر اہم فوجی نظاموں میں استعمال کیا جائے گا۔
ایسیلسان کا کہنا ہے کہ جدید انفراریڈ ڈیٹیکٹر دو مختلف اقسام میں تیار کیے گئے ہیں تاکہ مختلف جنگی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔یہ ٹیکنالوجی رات کے اندھیرے، دھند، دھوئیں، گردوغبار اور خراب موسم میں بھی دشمن کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے، ہدف کی شناخت کرنے اور اسے مسلسل ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ جدید سینسر پہلے ہی ترکیہ کے کئی اہم دفاعی منصوبوں میں شامل کیے جا چکے ہیں۔ان میں التائے مرکزی جنگی ٹینک کا یام گوز 200 نگرانی نظام، بیرقدار قزل ایلما بغیر پائلٹ جنگی طیارے کا طوی گُن الیکٹرو آپٹیکل نظام، حصار فضائی دفاعی میزائل سسٹم اور ترکیہ کے پانچویں نسل کے مقامی جنگی طیارے کان کے جدید سینسرز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی انتظامیہ کا جرمن کمپنی سے ونڈ منصوبے ختم کرنے کا معاہدہ
دفاعی ماہرین کے مطابق انفراریڈ ڈیٹیکٹر جدید جنگی ٹیکنالوجی کا سب سے حساس حصہ سمجھے جاتے ہیں۔،۔یہی سینسر تھرمل امیجنگ، میزائلوں کی ہدف شناسی، جاسوسی، نگرانی، ڈرونز اور انتہائی درست نشانہ بنانے والے نظاموں میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اس سے پہلے دنیا کے صرف چند ترقی یافتہ ممالک ہی فوجی معیار کے انفراریڈ ڈیٹیکٹر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ترکیہ کی اس کامیابی کو دفاعی خودمختاری کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اب اسے اس حساس ٹیکنالوجی کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف دفاعی میدان تک محدود نہیں۔انفراریڈ سینسر صنعتی معائنہ، ماحولیاتی نگرانی، سیکیورٹی، سائنسی تحقیق اور دیگر شہری شعبوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس سے ترکیہ کو دفاع کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی عالمی منڈی میں بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ترکیہ کی دفاعی صنعت گزشتہ چند برسوں میں ڈرونز، میزائلوں، جنگی بحری جہازوں اور جدید جنگی طیاروں کے بعد اب حساس انفراریڈ ٹیکنالوجی میں بھی خود کفیل ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کامیابی نہ صرف ترکیہ کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی بلکہ اسے عالمی دفاعی ٹیکنالوجی کی صفِ اول کی طاقتوں میں مزید مضبوط مقام دلائے گی۔












