بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اینویڈیا کے جدید ایچ 200 مصنوعی ذہانت کے چپس کی درآمد پر عائد پابندی میں نرمی شروع کردی ہے، جس کے بعد بائٹ ڈانس اور ٹین سینٹ نے تقریباً 10،10 ہزار چپس کی پہلی کھیپ وصول کرلی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ پیش رفت گزشتہ سال دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منظور کیے گئے لائسنس کے بعد پہلی بڑی کھیپ ہے جو چین تک پہنچی ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے تقریباً 10 چینی کمپنیوں کو اینویڈیا کے ایچ 200 چپس خریدنے کی اجازت دی تھی، جن میں علی بابا، بائٹ ڈانس، ٹین سینٹ اور جے ڈی ڈاٹ کام سمیت دیگر کمپنیاں شامل ہیں۔
تاہم چین نے ان چپس کی درآمد کے لیے ہر خریداری کو الگ الگ منظوری سے مشروط کر رکھا ہے، جس کے باعث کئی ماہ تک بڑی تعداد میں چپس چین نہیں پہنچ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق بائٹ ڈانس اور ٹین سینٹ کو فی کمپنی ایک لاکھ تک ایچ 200 چپس کی اجازت مل سکتی ہے، تاہم چینی حکام چاہتے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر چپس براہ راست مین لینڈ چین کے بجائے ہانگ کانگ میں رکھی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی خلائی ٹیکنالوجی میں بڑی کامیابی، راکٹ بوسٹر کامیابی سے زمین پر اتار لیا
ہانگ کانگ میں اتنی بڑی تعداد میں طاقتور اے آئی چپس چلانے کے لیے مطلوبہ ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر دستیاب نہیں۔اینویڈیا کا ایک ایچ 200 چپ تقریباً 700 واٹ تک بجلی استعمال کرتا ہے، جبکہ 8 جی پی یوز پر مشتمل ایک مکمل ایچ جی ایکس ایچ 200 سرور تقریباً 10 کلو واٹ بجلی استعمال کرسکتا ہے۔اگر ایک کمپنی کو ایک لاکھ چپس ملیں تو ان کے لیے تقریباً 12 ہزار 500 سرورز درکار ہوں گے، جنہیں چلانے کے لیے تقریباً 125 میگاواٹ آئی ٹی لوڈ درکار ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق اینویڈیا نے چینی مارکیٹ کے لیے تقریباً 5 لاکھ ایچ 200 چپس تیار کر رکھے ہیں۔ان تمام چپس کو استعمال کرنے کے لیے تقریباً 625 میگاواٹ آئی ٹی لوڈ درکار ہوگا۔دوسری جانب ہانگ کانگ میں موجود تقریباً 47 ڈیٹا سینٹرز کی مجموعی نصب شدہ گنجائش تقریباً 581 میگاواٹ بتائی جاتی ہے۔
یعنی اگر اینویڈیا کے چپس کی بڑی تعداد ہانگ کانگ منتقل کردی جائے تو انہیں چلانے کے لیے موجودہ ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔












