بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چینی سائنسدانوں نے ذیابیطس کے علاج کے لیے ایک جدید ’’اسمارٹ‘‘ پروبایوٹک تیار کیا ہے، جو جسم میں خون میں شوگر کی سطح بڑھنے کو محسوس کرکے خودکار طور پر شوگر کم کرنے والا ہارمون خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تحقیقی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ انجینیئرڈ بیکٹیریا جانوروں پر کیے گئے تجربات میں خون میں گلوکوز کی سطح کم کرنے کے حوالے سے معروف دوا اوزمپک کے برابر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہا۔
چینی محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا مقصد ذیابیطس کے علاج کو مستقبل میں زیادہ آسان بنانا ہے، جس کے تحت مریض کو روزانہ پیچیدہ علاج کے بجائے پروبایوٹک پر مشتمل خوراک یا کیپسول استعمال کرنے سے فائدہ پہنچایا جاسکے گا۔
یہ ’’اسمارٹ‘‘ بیکٹیریا خون میں شوگر کی بلند سطح کو محسوس کرنے کے بعد مخصوص ہارمون خارج کرتا ہے، جس سے گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں نایاب ارضی دھاتوں کی جانچ کی اہم ٹیکنالوجی میں بڑی پیشرفت
محققین نے اس ٹیکنالوجی کو پہلے جانوروں پر آزمایا ہے اور ابتدائی نتائج حوصلہ افزا قرار دیے گئے ہیں، تاہم انسانوں میں اس کی افادیت اور حفاظت جانچنے کے لیے مزید طبی تجربات درکار ہوں گے۔
چینی ٹیم کا ہدف ہے کہ آئندہ دو سال کے دوران اس جدید پروبایوٹک کو امریکی مارکیٹ تک پہنچانے کی راہ ہموار کی جائے، تاہم اس کے لیے ضروری طبی آزمائشوں اور ریگولیٹری منظوری کے مراحل مکمل کرنا ہوں گے۔












