دمشق ( پاک ترک نیوز) امریکا نے تقریباً 47 برس بعد شام کو دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے خارج کردیا، جسے شام کے لیے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے امریکی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تاریخی قدم قرار دیا ہے۔اسعد حسن الشیبانی کا کہنا ہے کہ شام کو دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے نکالا جانا شامی عوام کے لیے ایک تاریخی واقعہ ہے۔
شامی وزیر خارجہ کے مطابق امریکی فیصلے سے شام کی عالمی سطح پر تنہائی ختم کرنے کی راہ ہموار ہوگی، جبکہ شام کی حکومت شفافیت، باہمی مفادات اور باہمی احترام پر مبنی ماحول کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ شام عالمی برادری کے ساتھ بہتر تعلقات کے قیام اور ملک کو عالمی تنہائی سے نکالنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔امریکی فیصلے کو شام کے لیے سفارتی اور معاشی اعتبار سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست میں شامل ہونے کے باعث دمشق کو طویل عرصے سے امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی سطح پر مختلف مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غیرت کے نام پر قتل ناقابلِ راضی نامہ جرم، لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
شام کو اس فہرست سے خارج کیے جانے کے بعد ملک کے عالمی اقتصادی اور سفارتی روابط میں بہتری کی نئی راہیں کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔












