لاہور( پاک ترک نیوز) آج سے 20 سال قبل 24 اگست 2006 کو فلکیات کی دنیا میں ایک ایسا فیصلہ کیا گیا جس نے دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی۔ بین الاقوامی فلکیاتی یونین نے پلوٹو کو باقاعدہ سیاروں کی فہرست سے خارج کرکے اسے بونا سیارہ قرار دے دیا۔
اس فیصلے کے بعد پلوٹو کو نظامِ شمسی کے دیگر تصدیق شدہ بونے سیاروں کے ساتھ شامل کردیا گیا۔ پلوٹو کو سیارے کا درجہ نہ دینے کی بنیادی وجہ بین الاقوامی فلکیاتی یونین کی جانب سے سیارے کی نئی تعریف تھی۔
ماہرین فلکیات کے مطابق کسی بھی سیارے کو سورج کے گرد اپنے مدار کے آس پاس موجود دوسرے بڑے اجرامِ فلکی پر غالب ہونا اور اپنے مدار کو صاف کرنا ضروری ہے، جبکہ پلوٹو اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔
پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے نکالنے کے فیصلے پر دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا اور آج بھی ماہرین فلکیات کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ پلوٹو کو دوبارہ سیارے کا درجہ ملنا چاہیے یا نہیں۔ناسا کے نیو ہورائزنز مشن کے سربراہ اور سائنسدان ایلن اسٹرن نے بھی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بین الاقوامی فلکیاتی یونین کی نئی تعریف کے مطابق نظامِ شمسی کے دیگر سیارے بھی بعض شرائط پر سوالات کی زد میں آسکتے ہیں۔
ان کے مطابق زمین، مریخ، مشتری اور نیپچون بھی اپنے مداروں میں دیگر خلائی اجسام کے ساتھ مدار شیئر کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پلوٹو کو دوبارہ سیارے کا درجہ دیا جائے تو نظامِ شمسی میں موجود کئی دیگر بونے سیاروں کو بھی سیاروں کی فہرست میں شامل کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سیاروں کی تعداد کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی خلائی ٹیکنالوجی میں بڑی کامیابی، راکٹ بوسٹر کامیابی سے زمین پر اتار لیا
پلوٹو کو سیارے کا درجہ نہ ملنے کے باوجود دنیا بھر میں اس کے حامی موجود ہیں، جو مختلف مواقع پر اسے دوبارہ سیاروں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔فی الحال پلوٹو نظامِ شمسی کا ایک بونا سیارہ ہے، لیکن سائنسی دنیا میں اس کی حیثیت آج بھی دلچسپ بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔












