بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چینی توانائی کمپنی نے پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش، ریفائنریوں کی جدیدکاری، ایل این جی انفراسٹرکچر، توانائی کے آلات کی تیاری اور ساحلی علاقوں میں جدید انرجی سٹیز کے قیام سمیت توانائی کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر مشتمل جامع منصوبہ حکومتِ پاکستان کے سامنے پیش کر دیا۔
وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق شینڈونگ ژن شو گروپ کارپوریشن کے چیئرمین ہو جیان شن نے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات کے دوران مختلف سرمایہ کاری تجاویز پیش کیں۔
کمپنی نے پاکستان میں تیل و گیس کے شعبے میں پیداوار بڑھانے کے لیے آئل اور گیس فیلڈز کی استعداد بہتر بنانے، جدید ڈرلنگ سروسز فراہم کرنے اور پیداوار میں اضافے کے منصوبے پیش کیے۔ اس کے علاوہ ریفائنریوں میں فلوئیڈ کیٹالیٹک کریکنگ یونٹس نصب کرنے کی تجویز بھی دی گئی، جس سے فرنس آئل کو زیادہ قیمتی پٹرولیم مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی کی پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی
چینی کمپنی نے پاکستان میں توانائی سے متعلق آلات تیار کرنے کے لیے مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے، آف شور آئل ایکسپلوریشن، لیڈ مائننگ، سلفر پروسیسنگ پلانٹ اور ساحلی علاقوں میں ایل این جی ٹرمینلز، پٹرولیم ذخیرہ گاہوں اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر مشتمل انٹیگریٹڈ انرجی سٹیز کے قیام میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔
ہو جیان شن نے کہا کہ کمپنی پاکستان کے توانائی کے شعبے میں طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کی خواہاں ہے اور توانائی کی پوری ویلیو چین میں تعاون کو فروغ دینا چاہتی ہے۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور ویلیو ایڈیشن بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل منصوبوں کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔












