لاہور(پاک ترک نیوز ) پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز نے عملی امتحانات کے نظام میں اہم تبدیلی کا فیصلہ کر لیا، جس کے تحت عملی امتحان کا تحریری حصہ امتحانی مراکز کے بجائے متعلقہ بورڈز کی سطح پر چیک کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق نئے نظام کا مقصد عملی امتحانات کی نگرانی بہتر بنانا اور نمبروں کے عمل میں یکسانیت لانا ہے۔ بعض کیسز میں تھیوری میں کم کارکردگی کے باوجود عملی امتحانات میں غیر معمولی طور پر زیادہ نمبروں کی شکایات سامنے آئی تھیں۔
نئے نظام کے تحت فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور کمپیوٹر سائنس کے عملی امتحانات دینے والے طلبہ کو تجربے اور زبانی امتحان کے ساتھ تحریری ٹیسٹ بھی دینا ہوگا۔
لاہور بورڈ کے ایک سینئر افسر کے مطابق متعلقہ بورڈز طلبہ کی تحریری جوابی کاپیاں اکٹھی کرکے تربیت یافتہ ممتحنین کو مرکزی سطح پر مارکنگ کے لیے فراہم کریں گے۔
حکام کے مطابق عملی امتحانی مراکز پر موجود ممتحنین صرف طلبہ کے تجربات، عملی مہارت اور زبانی امتحان کا جائزہ لیں گے، جبکہ تحریری حصے کی جانچ بورڈ کی سطح پر کی جائے گی۔
تعلیمی حکام کا کہنا ہے کہ سابقہ نظام میں نگرانی کے محدود انتظامات کے باعث طلبہ اور اساتذہ کی جانب سے نمبروں میں عدم یکسانیت کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
نئے نظام کے تحت اگر کسی طالب علم کی جانب سے نمبروں کے حوالے سے شکایت کی جاتی ہے تو بورڈز کے لیے متعلقہ جوابی کاپی کا دوبارہ جائزہ لینا بھی آسان ہوگا۔
تعلیمی بورڈ کے حکام کے مطابق اصلاحات کا مقصد ایسا شفاف اور یکساں نظام یقینی بنانا ہے جس میں ہر امیدوار کو اس کی حقیقی کارکردگی کی بنیاد پر نمبر دیے جائیں۔












