لاہور( پاک ترک نیوز) رفتار سے سپرسونک پرواز تک۔۔۔ریڈار سے خفیہ پرواز کی ٹیکنالوجی تک۔۔۔اور روایتی جنگی طیاروں سے مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ نظاموں تک۔۔۔لڑاکا طیاروں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں ایسی ترقی کی ہے جس نے فضائی جنگ کا پورا نقشہ بدل دیا۔دوسری جنگِ عظیم کے آخری برسوں میں جرمنی کا میسر شمٹ ایم ای 262 دنیا کا پہلا باقاعدہ جنگی جیٹ طیارہ بن کر سامنے آیا۔تقریباً 540 میل فی گھنٹہ رفتار والے اس طیارے نے اتحادی پائلٹوں کو حیران کردیا، تاہم ایندھن اور وسائل کی شدید کمی کے باعث جرمنی اس کی مکمل صلاحیت استعمال نہ کرسکا۔
اس کے بعد سوویت یونین کا مگ 15 سامنے آیا۔خم دار پروں اور طاقتور انجن کی بدولت یہ طیارہ اپنے دور کا جدید ترین جنگی جہاز سمجھا گیا۔کوریا کی جنگ میں مگ 15 نے امریکی سیبر طیاروں کو سخت مقابلہ دیا اور اس کی 13 ہزار سے زائد تعداد تیار کی گئی۔دوسری نسل میں امریکا کا ایف 104 اسٹار فائٹر رفتار کی نئی حدوں کو چھونے والا طیارہ ثابت ہوا۔یہ دنیا کا پہلا جنگی طیارہ تھا جو مسلسل دو گنا رفتارِ صوت پر پرواز کرسکتا تھا۔اسی دور کا سوویت مگ 21 بھی تاریخ کے کامیاب ترین لڑاکا طیاروں میں شامل ہوا۔10 ہزار سے زائد طیاروں کی تیاری اور تقریباً دو گنا رفتارِ صوت کی رفتار نے اسے کئی جنگوں میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل بنایا۔تیسری نسل میں امریکا کا ایف 4 فینٹم دوم کثیرالمقاصد جنگی طیارے کے طور پر سامنے آیا۔جدید ریڈار، میزائلوں اور توپ سے لیس اس طیارے نے امریکی بحریہ، فضائیہ اور میرین کور میں خدمات انجام دیں۔
دوسری جانب سویڈن کا ساب 37 وِگن اپنے منفرد ڈیزائن اور چھوٹے اگلے پروں کے باعث اپنے دور سے آگے سمجھا گیا۔یہ طیارہ امریکی ایس آر 71 بلیک برڈ پر نظر رکھنے کی صلاحیت کے باعث بھی تاریخ میں نمایاں ہوا۔چوتھی نسل میں فرانس کا ڈسالٹ رافیل اور یورپی ممالک کا مشترکہ یورو فائٹر ٹائفون جدید کثیرالمقاصد جنگی طیاروں کی بہترین مثالیں بنے۔تیز رفتار، جدید برقی پرواز کنٹرول نظام اور مختلف جنگی مشنز انجام دینے کی صلاحیت نے دونوں طیاروں کو دنیا کی اہم فضائی طاقتوں کا حصہ بنا دیا۔ساڑھے چار نسل میں امریکا کا ایف 15 ای ایکس ایگل دوم اور روس کا سخوئی ایس یو 35 ایس نمایاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران پر دوبارہ حملے کے لیے کسی بھی وقت تیار ہے، ٹرمپ
ایف 15 ای ایکس تقریباً 29 ہزار 500 پاؤنڈ تک ہتھیار اور دیگر سامان لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ایس یو 35 اپنی زبردست پینتریبازی، طاقتور انجن اور بغیر بعد از احتراق نظام کے سپرسونک پرواز کی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔پھر آیا پانچویں نسل کا دور۔۔۔جہاں جنگی طیاروں کی طاقت صرف رفتار اور ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی۔امریکا کا ایف 22 ریپٹر خفیہ پرواز، جدید حساسی آلات، معلومات کو یکجا کرنے کی صلاحیت اور مسلسل سپرسونک پرواز کے باعث دنیا کے طاقتور ترین فضائی جنگی طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔اس کے بعد ایف 35 لائٹننگ دوم نے جنگی طیاروں میں معلومات اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا تصور مزید تبدیل کردیا۔
خفیہ پرواز، جدید حساسی آلات، مصنوعی ذہانت سے مدد لینے والے نظام، پائلٹ کا جدید ہیلمٹ اور میدانِ جنگ میں معلومات کا فوری تبادلہ۔۔۔ایف 35 کو ایک طیارے کے بجائے چلتا پھرتا معلوماتی نظام بھی قرار دیا جاتا ہے۔لیکن جنگی طیاروں کی ترقی یہاں ختم نہیں ہوتی۔دنیا اب چھٹی نسل کے طیاروں کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں انسان بردار جنگی جہازوں کے ساتھ بغیر پائلٹ طیارے، مصنوعی ذہانت، جدید حساسی آلات اور مختلف جنگی نظام ایک دوسرے سے مربوط ہوں گے۔












