واشنگٹن :(پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی قوانین کو کھلے عام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں اپنائی جانے والی جارحانہ امریکی پالیسیوں کو روکنے کے لیے انہیں کسی بین الاقوامی قانون کی نہیں بلکہ صرف اپنی “ذاتی اخلاقیات” کی ضرورت ہے۔
یہ بیان انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد دیا ہے۔ٹرمپ نے دی نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، “مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں، میں لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کچھ نہیں کر رہا۔” جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں عالمی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ “آپ بین الاقوامی قانون کی تعریف کیا کرتے ہیں۔”
ٹرمپ حالیہ عرصےمیں اپنے خارجہ اہداف کے حصول کے لیے امریکی فوجی طاقت کے بے دریغ استعمال پر آمادہ نظر آ رہے ہیں۔ ہفتے کے روز امریکا نے علی الصبح وینزویلا پر بڑا فوجی حملہ کیا، جس کے دوران دارالحکومت کراکس اور فوجی اڈوں پر زوردار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس کارروائی کے بعد امریکی فوج نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کر لیا، جسے ناقدین اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ یہ چارٹر کسی بھی ریاست کی خودمختاری یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال سے منع کرتا ہے۔
وینزویلا پر حملے کے بعد ٹرمپ کا لہجہ مزید جارحانہ ہو گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا وینزویلا کو “چلائے گا” اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھائے گا، اگرچہ ان کی حکومت نے عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ تعاون کی بات بھی کی ہے۔
اس کے باوجود امریکی انتظامیہ نے واضح کیا کہ وہ عبوری حکومت کو پالیسی “ڈکٹیٹ” کرے گی اور مطالبات نہ ماننے کی صورت میں مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
ماہرینِ قانون اور عالمی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کرنا پوری دنیا، حتیٰ کہ خود امریکا کے لیے بھی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ مارگریٹ سیٹر ویتھ نے ایسے بیانات کو “انتہائی خطرناک” قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دنیا ایک بار پھر سامراجی دور کی طرف بڑھ سکتی ہے، جہاں طاقتور ریاستیں کمزور ممالک کے خلاف کھلی جارحیت کو جواز بنا لیں گی۔












