ابوظہبی : (پاک ترک نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے ایک نہایت واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کسی بھی ممکنہ امریکی حملے سے خود کو مکمل طور پر الگ کر لیا ہے۔
اماراتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس کی سرزمین، فضائی حدود یا سمندری راستے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یو اے ای کی جانب سے جاری باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چاہے معاملہ براہِ راست حملے کا ہو یا بالواسطہ معاونت کا، متحدہ عرب امارات کسی صورت لاجسٹیکل سہولت، فوجی مدد یا سپورٹ فراہم نہیں کرے گا۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی تیسرے ملک کو بھی ایسی اجازت نہیں دی جائے گی۔اماراتی حکام نے زور دیا کہ خطے کو درپیش موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سفارتی مکالمے، کشیدگی میں کمی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام میں پوشیدہ ہے۔
ان کے مطابق جنگی اقدامات پورے خطے کو غیر متوقع اور خطرناک نتائج کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے اپنا جدید جنگی بحری بیڑہ، جس میں طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن شامل ہے، خلیجی اور عمانی پانیوں کے قریب تعینات کر دیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بحری طاقت ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپریشن کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔اس سے قبل امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان بھی سامنے آ چکا ہے کہ ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور خطے میں ایک بڑی بحری آرماڈا روانہ کی جا چکی ہے، تاہم واشنگٹن باضابطہ طور پر جنگ کے اعلان سے گریز کر رہا ہے۔
دوسری طرف ایران کی جانب سے بھی سخت لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان کی افواج مکمل الرٹ پر ہیں اور کسی بھی حملے کی صورت میں فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایک اعلیٰ فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ افواج کو صرف اعلیٰ قیادت کے اشارے کا انتظار ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کا یہ دوٹوک مؤقف نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ امریکا کی ممکنہ جنگی حکمتِ عملی کے لیے بھی ایک بڑا سفارتی چیلنج بن سکتا ہے۔ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور آنے والے دن مشرقِ وسطیٰ کے لیے انتہائی نازک ثابت ہو سکتے ہیں۔












