کراچی: (پاک ترک نیوز)سندھ کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنماؤں، وزرا اور سندھ اسمبلی کے منتخب اراکین کی پولیس سیکیورٹی اچانک واپس لے لی گئی ہے۔
اس غیر متوقع اقدام نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ خود حکومتی ایوانوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ایم کیو ایم کے مطابق جن اہم شخصیات کی سیکیورٹی ختم کی گئی ہے، ان میں وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی اور رکنِ سندھ اسمبلی علی خورشیدی شامل ہیں۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بغیر کسی پیشگی اطلاع اور باضابطہ وضاحت کے نافذ کیا گیا، جو سنگین سیکیورٹی خدشات کو جنم دیتا ہے۔ایم کیو ایم رہنماؤں نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ سیکیورٹی واپس لینے کی بنیاد کیا ہے، یا آیا کسی خطرے کے جائزے میں تبدیلی کی گئی ہے۔
پارٹی کے مطابق ایسے فیصلے اگر شفافیت کے بغیر ہوں تو یہ سیاسی دباؤ کے تاثر کو مضبوط کرتے ہیں۔ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت کی کارکردگی پر کی گئی کھلی تنقید اس فیصلے کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔
تاہم پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہے تو یہ جمہوری تنقید کو دبانے کے مترادف ہوگا، جو قابلِ قبول نہیں۔پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سیکیورٹی انتظامات میں ردوبدل کیا گیا ہے تو اس کی قانونی حیثیت، خطرے کا تجزیہ اور فیصلہ کرنے والے حکام کی وضاحت عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ ابہام کا خاتمہ ہو۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ایم کیو ایم پاکستان نے آج شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی ہے، جس میں سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے، ممکنہ سیاسی محرکات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب سندھ حکومت یا متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ یا تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آ سکا، جس کے باعث سوالات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں صوبائی سیاست میں ایک نئے تناؤ کا سبب بن سکتا ہے۔












