انقرہ ( پاک ترک نیوز) رواں ہفتے کے آخر میں امریکہ کی جانب سے ایران پر بڑے حملے کا امکان ہے ۔
اس حوالے سے ترکیہ میں تعیناتی امرییک سفیر اور شام کیلئے خصوصی نمائندے ٹام بارک کا کہناہے کہ رواں ہفتے کے آخری پر امریکہ ایک بار پھر ایران دوبارہ حملہ ہو سکتاہے ۔ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کیساتھ معاہدے اور مذاکرات کیلئے اب بھی تیار ہیں۔
ٹام بارک کا ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کئی ماہ سے بات چیت جاری ہے، ایران کی امریکا، اتحادیوں اور خلیجی ممالک کو دھمکیوں کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
امریکی سفیر نے کہا کہ امریکی کارروائی کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں ہو گا، امریکی صدر ٹرمپ ایران میں حکومت کی تبدیلی میں دلچسپی نہیں رکھتے، صدر ٹرمپ خطے میں سکیورٹی صورتحال دوبارہ متوازن کرنا چاہتے ہیں۔
ٹام بیرک کے مطابق حکومت تبدیل کرنے کے منصوبوں میں ہمیشہ ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد دوسرے دن کیا ہو گا؟۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی آپریشن کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم کر سکتا ہے، تاہم ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو معاشی مشکلات، مہنگائی اور مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جنگ ختم کی جائے یا ایران کو مزید کمزور ہونے دیا جائے۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے معاملے کے بعد کیوبا سے بھی نمٹا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھیجا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پولیو کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنا ہوں گی ،صدر زرداری
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعوی کیاتھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ زیر غورہے ۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے منصوبے کا دعویٰ کیا تھا۔
دوسری جانب واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے دھمکیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری سفارتی تعطل کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکان کا عندیہ دیا ہے، تاہم ٹرمپ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے پہلے ایسا نہیں کیا جائے گا۔












