فلوریڈا(پاک ترک نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی آپریشن کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم کر سکتا ہے، تاہم ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو معاشی مشکلات، مہنگائی اور مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جنگ ختم کی جائے یا ایران کو مزید کمزور ہونے دیا جائے۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے معاملے کے بعد کیوبا سے بھی نمٹا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھیجا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں سے تیل کی ترسیل جاری ہے اور امریکا اپنی مرضی کے مطابق تیل نکال رہا ہے۔ ان کے بقول، آبنائے ہرمز سے اس وقت جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل برآمد ہو رہا ہے۔امریکی صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ بھی دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے دوران 11 طیارے گرائے گئے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ جنگیں رکوانے کے اپنے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر شکوہ کیا کہ اس کے باوجود انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں کوئی خفیہ نکات نہیں، دفتر خارجہ
ٹرمپ کے ان بیانات میں ایران کے خلاف ممکنہ مزید فوجی کارروائی، مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی ترسیل اور پاکستان و بھارت کے درمیان کشیدگی کا معاملہ نمایاں رہا۔












