اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ صرف انسانی حقوق کے معاملے میں بین الاقوامی معاہدات کی پاسداری کرتا ہے بلکہ بنیادی دینی تعلیمات کی روشنی میں بھی تمام انسانی حقوق کو مقدم رکھتا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انسانی حقوق کے عالمی دن 10 دسمبر 2025 پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان آج عالمی برادری کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کا عالمی دن منا رہا ہے۔ اس دن کی مناسبت سےآج پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہم بنیادی انسانی حقوق خصوصا انسان کی عزت و تکریم ، برابری اور آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
انسانی حقوق کا عالمی دن 2025 میں “ہمارے روزمرہ کی ضروریات” کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔ یہ موضوع اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ انسانی حقوق محض نظریاتی یا کتابی تصورات نہیں بلکہ وہ عملی اقدامات بشمول خوراک صاف پانی کی فراہمی اور تحفظ زندگی جیسےبنیادی عناصر پر مشتمل ہیں.
ہر سال 10 دسمبر کو منایا جانے والا انسانی حقوق کا عالمی دن 1948 میں اقوام متحدہ کی جانب سے منظور کیا جانے والا تاریخی اعلامیہ برائے حقوق انسانی (UDHR) کی یاد تازہ کرتا ہے جو ایک ایسا سنگ میل ہے جس نے پوری انسانیت کے لیے عزت، آزادی، برابری اور انصاف کے تحفظ کی جدوجہد کا نیا باب رقم کیا۔
یہ دن دنیا بھر کی قوموں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور انسانی اقدار کے احترام اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ صرف انسانی حقوق کے معاملے میں بین الاقوامی معاہدات کی پاسداری کرتا ہے بلکہ بنیادی دینی تعلیمات کی روشنی میں بھی تمام انسانی حقوق کو مقدم رکھتا ہے۔
اسلام انسانی حقوق کا سب سے مضبوط، معتبر اور موثر سرچشمہ ہے۔ اسلام پوری انسانیت کے لیے برابری کا اعلان کرتا ہے اور ایک ایسے معاشرے کا حکم دیتا ہے جہاں رنگ و نسل ذات، مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہ ہو اور سب باہمی امن و ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکیں۔
حکومت پاکستان انسانی حقوق کے تحفظ، فروغ اور مؤثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔ اقوام متحدہ کی رکن ریاست اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری میں پاکستان نے ہمیشہ ملکی اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی حمایت کی ہے۔ ہمارا آئین ہر شہری کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور حکومت انہی حقوق کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کاوشیں کر رہی ہے۔
حکومت ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ سماجی تحفظ، صنفی برابری، بچوں، خواتین، اقلیتوں، خصوصی افراد اور معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہمارا مقصد ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں کوئی شہری بھی پیچھے نہ رہ جائے۔
حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کے تحفظ و ترویج کے لیے بااختیار ادارہ جاتی نظام قائم کیا گیا ہے، ہیلپ لائن 1099 کی قائم کی گئی ہے، جن میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن اور نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
حال ہی میں پارلیمنٹ نے اقلیتوں کے حقوق کیلئے نیشنل کمیشن بل 2025 بھی منظور کیا ہے تاکہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کیا جا سکے۔
آج انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر، پاکستان اس بات کا عزم دہراتا ہے کہ معاشرے میں ہر فرد کے عزت و احترام کو مزید مضبوط کیا جائے گا، ان کو ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور آبادی میں برابری و شمولیت کو قومی ترقی کی بنیاد بنایا جائے گا۔
انسانی حقوق کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور میں معاشرے کے تمام طبقات بشمول صوبائی حکومتیں، ریاستی ادارے، سیاسی قیادت، سول انتظامیہ، میڈیا، سول سوسائٹی اور خصوصا نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ رواداری، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔












