عدالت اس اہم آئینی معاملے کا جائزہ لے رہی ہے
مظفر آباد ( پاک ترک نیوز) آزاد کشمیر میں مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں میں مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری ہے، جہاں عدالت اس اہم آئینی معاملے کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ نشستیں موجودہ شکل میں برقرار رہیں گی یا نہیں۔
تفصیلات کےمطابق آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی ۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس دوران عدالت نے ریفرنس میں اٹھائے گئے آئینی نکات پر عدالتی معاونین سے تفصیلی رائے طلب کر لی۔
سماعت کے دوران سینئر قانون دان سجاد احمد خان نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ قانون سازی کا اختیار اسمبلی کے پاس ہے اور اسمبلی اراکین کی جانب سے دی گئی رائے ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
سجاد احمد خان نے کہا کہ مہاجرین کی مخصوص نشستوں کا معاملہ پہلے ہائی پاور کمیٹی کے سامنے لایا جانا چاہیے تھا تاکہ تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔
سجاد احمد خان نےوفاقی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اس معاملے پر پہلے ہی مختلف فورمز پر مشاورت ہو چکی ہے، جسے بھی عدالت کے سامنے مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
یہ مقدمہ آزاد کشمیر کی سیاست اور آئینی ڈھانچے کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے فیصلے کے براہِ راست اثرات قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی نمائندگی اور مستقبل کے انتخابی نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔







