پیرس ( پاک ترک نیوز) یورپ کی فٹبال تنظیم نے عالمی فٹبال کی انتظامی تنظیم کی جانب سے ورلڈ کپ اور دیگر بڑے مقابلوں میں نجی سرمایہ کاروں کو حصہ داری دینے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ منصوبہ منظور کیا گیا تو یورپی ممالک ورلڈ کپ سمیت تمام عالمی مقابلوں کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔
ہنگامی اجلاس میں یورپ کے تمام 55 رکن ممالک نے متفقہ طور پر اس منصوبے کی مخالفت کی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ورلڈ کپ دنیا بھر کے کھلاڑیوں، قومی ٹیموں اور شائقین کا مشترکہ ورثہ ہے، اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر شمالی اور وسطی امریکہ کی فٹبال تنظیم کے 41 رکن ممالک نے بھی اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت عالمی فٹبال کی تنظیم ایک نئی تجارتی کمپنی قائم کرنا چاہتی ہے، جس میں نجی سرمایہ کار محدود حصص خرید سکیں گے اور ورلڈ کپ سمیت بڑے مقابلوں کے تجارتی معاملات اسی کمپنی کے ذریعے چلائے جائیں گے۔
اس منصوبے کی منظوری کے لیے 211 رکن ممالک میں سے کم از کم 106 ووٹ درکار ہوں گے، تاہم یورپ اور شمالی و وسطی امریکہ کے مجموعی 96 ارکان پہلے ہی مخالفت کا اعلان کر چکے ہیں۔
یورپی تنظیم نے کہا کہ اتنی اہم تجویز کو خفیہ طور پر تیار کرنا، متعلقہ اداروں سے مشاورت نہ کرنا اور مختصر مدت میں منظوری مانگنا ناقابلِ قبول ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قومی فٹبال تنظیموں کو دباؤ میں لا کر فیصلہ کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو عالمی کھیل کے مفاد کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں مزید 555 سرکاری اسکول بند یا ضم کرنے کا فیصلہ
برطانیہ، اسکاٹ لینڈ اور دیگر یورپی ممالک کی فٹبال تنظیموں نے بھی اس مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ شائقین اور کھیل کا اثاثہ ہے، کسی سرمایہ کار کی ملکیت نہیں بن سکتا۔
دوسری جانب ایشیائی اور افریقی فٹبال تنظیموں نے بھی منصوبے پر مکمل مشاورت نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ مختلف فٹبال لیگز نے عالمی فٹبال کی انتظامی تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس متنازع منصوبے کو واپس لے۔












