اسلام آباد(پاک ترک نیوز) ملک میں بجلی کی طلب میں مسلسل کمی کے پیش نظر حکومت نے نئے بجلی ٹیرف پیکیج پر کام شروع کر دیا ہے، جبکہ جون میں استعمال ہونے والی بجلی کے لیے اگست کے بلوں میں فی یونٹ ایک روپے 20 پیسے اضافی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) وصول کرنے کی تجویز بھی سامنے آ گئی ہے۔
نیپرا میں ہونے والی عوامی سماعت کے دوران حکومتی حکام نے بتایا کہ جون 2026 میں بجلی کی کھپت نہ صرف اندازوں سے تقریباً 5 فیصد کم رہی بلکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں بھی 3.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں بجلی کی مجموعی فروخت 9.995 ارب یونٹس رہی، جبکہ جون 2025 میں یہ 10.337 ارب یونٹس تھی۔
حکام نے بتایا کہ صنعتی شعبے میں 2.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم گھریلو، تجارتی، زرعی اور بلک صارفین کی بجلی کھپت میں 3.5 سے 29 فیصد تک کمی آئی۔ بجلی کی طلب کم ہونے کی بڑی وجوہات میں سولر نیٹ میٹرنگ، بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی، موسمی حالات اور صارفین کے استعمال کے انداز میں تبدیلی شامل ہیں۔
نیپرا کے رکن مقصود انور خان نے مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ اور کمرشل لوڈشیڈنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب بجلی کی طلب کم ہو رہی ہے تو پھر صارفین کو لوڈشیڈنگ کیوں برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف گرڈ اسٹیشن اور ٹرانسفارمر بند کر دینے سے نظام بہتر نہیں ہوگا بلکہ بجلی چوری اور کنڈوں کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔
حکام نے اعتراف کیا کہ جون کے دوران چار روز تک 93 سے 730 میگاواٹ تک لوڈشیڈنگ کی گئی، جبکہ ریونیو بنیادوں پر لوڈشیڈنگ بھی جاری رہی۔پاور ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ قطر سے معاہدے کے تحت ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی خریدنا پڑی، جبکہ فرنس آئل کا بھی محدود استعمال کیا گیا، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا۔
پاور ڈویژن کے حکام کے مطابق حکومت ایک نئے بجلی ٹیرف پیکیج پر کام کر رہی ہے، جس میں ٹائم آف یوز ٹیرف، کیپٹو پاور پلانٹس، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور دیگر اصلاحات شامل ہوں گی۔ تاہم اس پیکیج کی تفصیلات ابھی حتمی نہیں اور منظوری کے لیے بعد میں نیپرا کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
کراچی کے صنعتی نمائندوں نے انکریمنٹل ٹیرف پیکیج پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات دیگر صارفین، خصوصاً گھریلو شعبے پر بھی پڑ رہے ہیں۔ حکومتی حکام نے بتایا کہ تین سالہ مراعاتی پیکیج کے پہلے چھ ماہ کا ڈیٹا نیپرا کو فراہم کر دیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر ضروری تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ ڈسکوز کی نااہلی سے ہونے والے مالی نقصانات دو سال میں 591 ارب روپے سے کم ہو کر 326 ارب روپے رہ گئے ہیں، تاہم نیپرا نے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بہتری کا اصل معیار بجلی چوری میں کمی اور نظام کی اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ لوڈشیڈنگ کے ذریعے نقصانات کم کرنا۔
دوسری جانب صنعتی صارفین نے تین جوہری بجلی گھروں میں ری ایکٹر مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا، تاہم حکام نے واضح کیا کہ جوہری پلانٹس کی مجموعی دستیابی تقریباً 94 فیصد رہی، جو معاہدے میں مقررہ حد کے مطابق ہے۔
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے پاور ڈویژن کے مطابق جون کے لیے ریفرنس فیول لاگت 7 روپے 71 پیسے فی یونٹ مقرر تھی، جبکہ اصل لاگت 8 روپے 90 پیسے فی یونٹ رہی۔ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے اگست کے بجلی بلوں میں فی یونٹ ایک روپے 20 پیسے اضافی وصول کرنے کی درخواست نیپرا کو دی گئی ہے۔ اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو موجودہ 34 پیسے فی یونٹ ایف سی اے ختم ہونے کے بعد صارفین پر مجموعی طور پر تقریباً 86 پیسے فی یونٹ اضافی بوجھ پڑے گا۔












